بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دیہات میں جمعہ کی نماز پڑھنا


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں جس مسجد میں امام ہوں، وہاں کے لوگ نمازِ جمعہ شروع کرنے کی درخواست کر رہے ہیں۔ ہماری بستی کا محلِ وقوع بشام سے تقریباً 15 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، جبکہ مین شاہراہِ قراقرم سے پیدل تقریباً 20 تا 25 منٹ کے فاصلے پر واقع ہے۔ مین شاہراہ پر موجود مساجد میں نمازِ جمعہ ادا کی جاتی ہے۔ ان میں سے جو مسجد ہمارے سب سے قریب ہے، وہ بھی ہماری بستی سے پیدل تقریباً 20 تا 25 منٹ کے فاصلے پر ہے، اور اس مسجد سے جمعہ کا بیان اور اذان کی آواز لوڈ اسپیکر کے ذریعے ہماری بستی تک پہنچ جاتی ہے۔ مذکورہ مسجد کے آس پاس مختلف اشیاء (مثلاً اشیائے خورد نوش، کپڑا، جوتے، میڈیکل اسٹور، ایزی پیسہ شاپ وغیرہ) کی تقریباً 30 تا 40 دکانیں موجود ہیں، البتہ وہاں کوئی بڑا ہسپتال، لیبارٹری، بینک یا تھانہ وغیرہ موجود نہیں ہے۔ ہماری بستی کے افراد کی تعداد تقریبا 240  ہیں۔ اورجن مساجد میں جمعہ پڑھایا جاتا ہے، وہ ہماری بستی اور آس پاس کے تمام بستیوں  سمیت "کوز باٹکوٹ" کے نام سے موسوم علاقے میں واقع ہیں ان کا ایک ویلج کونسل ہے۔جس کی کل آبادی زیادہ سے زیادہ تقریباً 1500 نفوس ہے۔ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے محلے اور گھر ایک دوسرے سے فاصلے پر واقع ہیں۔ مندرجہ بالا تفصیلات کو مدنظر رکھتے ہوئے، دلائلِ شرعیہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ آیا ہم اپنی مسجد میں نمازِ جمعہ شروع کریں یا حسبِ سابق نمازِ ظہر ہی ادا کرتے رہیں؟

جواب

 واضح رہے کہ نماز جمعہ وعیدین کے وجوب ادا کے لیے دیگر شرائط کے علاوہ ایک شرط یہ ہے کہ وہ جگہ مصر، فنائے مصر یا بڑا گاؤں ہو۔ موجودہ دور میں جس علاقے کی آبادی دو ڈھائی ہزار افراد پرمشتمل ہو، اورضروریات زندگی میسرہوں وہ بڑا گاؤں کہلاتا ہے۔ اس سے کم آبادی والے  گاؤں کے لوگوں پر نماز جمعہ وعیدین واجب نہیں۔

سوال میں ذکر کردہ معلومات  کے مطابق اس علاقے کی حیثیت نہ شہر کی ہے، نہ فناءِ شہر میں واقع ہے۔ اور نہ اس کی آبادی اتنی ہے کہ بڑا گاؤں کہلا سکے۔ اس لیے یہاں جمعہ پڑھنا درست نہیں، اور بغیر وجوب کے پڑھنا جائز نہیں۔ لہٰذا حسبِ سابق نمازِ ظہر ہی ادا کی جائے۔

 

لا تصح الجمعة إلافي مصرجامع، أو في مصلى المصر، ولا تجوز في القرى.(ألهداية، كتاب الصلواة، باب صلواة الجمعة، ج:1، ص:177)

أما المصر الجامع ‌فشرط ‌وجوب ‌الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها۔ (بدائع الصنائع، فصل في بيان شرائط الجمعه، ج:1، ص:259)


فتویٰ نمبر : 10923/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں