بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
بڑے قصبے میں نمازِ جمعہ پڑھنا
سوال
خیر آباد کوئی پچاس دوکانوں پر مشتمل ایک بازار ہے جس میں صحت جمعہ کے حوالے سے معلومات حاصل کرنا مقصود ہے۔ اس جگہ کے مختصر کوائف مندرجہ ذیل ہیں : 60ء کے عشرے میں یہ بازار 750 میٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں گیدڑی سے نقل ہو کر یہاں آباد ہوا تھا۔ 60ء کے عشرے میں گیدڑی میں بیس پچیس دو کانوں پر مشتمل ایک مختصر سا بازار تھا جو کہ مختصر ہونے کے باوجود جامع قسم کا بازار شمار ہوتا تھا۔ یہاں کا روبار کی رفتار بہت تیز تھی اور اس وقت اس بازار میں کپڑے کی دوکان اور ایک ہوٹل موجود تھا جس میں کباب پکتے تھے اور قصاب کی دوکان بھی موجود تھی۔ جب اوگی بلگرام روڈ بنا تو یہ بازار گیدڑی سے خیر آباد میں منتقل ہو گیا کیونکہ سڑک خیر آباد سے گزری اور گیدڑی اس سے 750 میٹر دور رہ گیا۔ اس نو آبادیاتی بازار کو اب کوئی پچاس پچپن سال ہوگئے ہیں۔ جس وقت یہ بازار خیر آباد میں منتقل ہو رہا تھا، اس وقت یہاں آبادی نہیں تھی ، تاہم بازار بنتے ہی یہاں تیزی سے لوگ آباد ہونے لگے اور اس وقت یہاں مسجد بنی ، جو لوگ اس مسجد میں پنج وقتہ نمازوں کے لیے آتے تھے، وہ آبادی اب تقریبا چار سونفوس مشتمل ہے۔ خیرآباد کی اس تمدنی ترقی کے ساتھ ایک عرف یہ بھی بن گیا کہ نارضا نامی جگہ سے لے کر جار گلی کنڈاؤ اور چھپڑی نامی جگہ سے لے کر شگو نامی جگہ تک کوئی 12 مربع کلومیٹر (6 کلومیٹر طویل اور 2 کلو میٹر چوڑی وادی) خیر آباد" کے نام سے موسوم ہو گئی۔
اب خیر آباد بازار اس پورے علاقے کے لیے ایک مرکز کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ تمدنی ترقی کے اس سفر میں مزید یہ صورتحال بھی سامنے آئی ہے کہ خیر آباد مرکز سے چاروں اطراف میں آبادیاں متصل ہو گئی ہیں، ہر جگہ یہ اتصال آبادی کے ایک جھنڈ کا دوسرےجھنڈ سے اتصال کے طور پر نہیں بلکہ بعض جگہوں میں تو جھنڈ کا جھنڈ سے اتصال ہے اور بعض جگہوں میں مکانات انفرادی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ متصل ہیں۔ فاصلے کے لحاظ سے اتصال کی نوعیت یہ ہے کہ 100 میٹر سے کم کم فاصلے سے آبادیاں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر خیر آباد سے شگو کوئی 350 میٹر کے فاصلے پر مشرق میں واقع ہے۔ اس کا خیر آباد کے ساتھ اتصال کچھ اس طرح ہے کہ خیر آباد کے ساتھ خرمیدان نامی محلہ متصل ہو گیا ہے جو کہ ایک مسجد اور تقریبا پندرہ گھروں پر مشتمل ہے۔ 20میٹر کے فاصلے پر مولانا سراج الحق صاحب کا محلہ ہے جو کہ ایک مسجد اور تقریباً بارہ گھر وں پر مشتمل ہے۔ اس سے کوئی 30 میٹر کے فاصلے پر شلتالو کے نام سے محلہ ہے جس میں کوئی 20 گھر آباد ہوں گے۔ فشلتالو اور شگو کے قبرستان میں کوئی 30 میٹر کا فاصلہ ہو گا۔ اس کے متصل بعد شگو گاؤں آتا ہے جس میں چار مساجد سمیت کوئی 60 گھر آباد ہوں گے۔ خیر آباد سے شمال کی طرف سر ڈھیری کا محلہ ہے جو کہ گیدڑی کا ہی حصہ ہے۔ خیر آباد کی آخری آبادی سے سر ڈھیری محلے کی آبادی 40 میٹر کی مسافت پر واقع ہو گی۔ سرڈھیری محلہ جہاں ختم ہوتا ہے وہاں گیدڑی ،خیر آباد اور سرڈھیری کا مشتر کہ قبرستان واقع ہے۔ سرڈھیری گیدڑی کا ایک محلہ ہے۔ قبرستان کی ایک جانب گیدڑی کا مرکزی گاؤں ہے اور دوسری جانب سرڈھیری ہے۔
گیدڑی ور سر ڈھیری خیر آباد کے شمال میں واقع ہیں۔ خیر آباد سے جنوب کی طرف بیلہ ڈب تک آبادی کچھ اس طرح متصل ہے کہ زنگون نامی جگہ تک وہ آبادی واقع ہے جہاں کے مکین خیر آباد کی آبادی کے وقت سے پندرہ سال پہلے تک خیر آباد میں پنج وقتہ نمازیں ادا کرتے تھے، اب وہاں جدا گانہ مسجد بنی ہے۔ زنگون سے آگے بانڈہ جلات خان واقع ہے، جہاں کوئی 35 گھر آباد ہوں گے۔ دو مساجد، ایک سرکار ی پرائمری سکول اور ایک پرائیویٹ ہائی سکول واقع ہیں۔ جبکہ ایک مارکیٹ موجود ہے جس میں ایک ٹیکنیشن کے کلینک سمیت کوئی دس دوکانیں موجود ہیں۔ اس سے کوئی 100 میٹر کے فاصلے پر بیلہ ڈب آتا ہے جہاں حال ہی میں کوئی پندرہ دو کانوں پر مشتمل بازار وجود میں آیا ہے۔بانڈہ جلات خان اور بیلہ ڈب کے درمیان تین گھروں، دو دوکانوں اور ایک مسجد پر مشتمل چھوٹا سا محلہ بھی موجود ہے۔ یہ تو بانڈہ جلات خان سے اوگی سڑک پر عین جنوبی جانب کے احوال تھے۔ بانڈہ جلات خان سے بالکل مشرقی سمت میں بانڈہ بالا کا گاؤں واقع ہے جو کہ بانڈہ جلات خان سے متصل ہو چکا ہے۔ وہاں کی آبادی ایک مسجدہ 60 گھروں، ایک گورنمنٹ گرلز مڈل سکول ، دو گور خمنٹ پرائمری سکولوں پر مشتمل ہے۔خیر آباد سے مغرب کی جانب دور تک آبادی پائی جاتی ہے جو کہ چھپڑی تک پہنچی ہوئی ہے اور ہزاروں نفوس پر مشتمل ہے۔ تاہم وہ آبادیاں جد اگانہ ناموں سے موسوم ہیں اور اتصال آبادی کی نوعیت ویسی ہے جو کہ سوال کے شروع میں بتائی گئی ہے۔ شمال مغرب میں بھی اچھی خاصی آبادی ہے مگر ان کا تصال اتنا واضح نہیں ہے، درمیان میں تین سو میٹر کا فاصلہ ضرور ہو گا۔ جنوب مغرب میں بھی کافی آبادی ہے جو کہ سو، ڈیڑھ سو اور دو سو میٹر کے فاصلے سے ایک دوسرے سے متصل ہے۔
خیر آباد بازار کی نوعیت اس طرح ہے کہ یہاں ایک بڑا سرکاری ہسپتال (بی ،ایچ،یو) ، ڈاکٹروں کے تین پرائیوٹ کلینک ایک پرائیویٹ مڈل سکول ،جامع مسجد اور خیر آباد میں واقع غیررہائشی طلبہ کے لیے دینی مدرسہ موجود ہے۔ اس مدرسے میں دو قاری صاحبان کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ بازار دو رویہ اور منظم شکل میں ہے۔ بازار کے لیے مستقل چوکیدار موجود ہےبازار والوں نے اپنی ایک یو نین بنائی ہے جس کا باقاعدہ طور پر صدر اور جنرل سیکرٹری منتخب کیا جاتا ہے۔ اکثر ضروریات زندگی یہاں دستیاب ہیں ، قصاب کی دوکان موجود نہیں، لیکن اب چونکہ لوگ زیادہ تر فارمی مرغ استعمال کرتے ہیں، اور وہ پانچ چھ دوکانوں میں دستیاب ہے۔ کپڑے کی دوکان فی الحال نہیں ہے، پہلے پائی جاتی تھی ،علاقہ خیر آباد کی مذہبی پوریشن یہ ہے کہ یہاں ملک کے نامور اداروں کے تقریبا 30 علمائے کرام رہائش پذیر ہیں جو کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ خیر آباد میں ڈاک خانہ کی ایک شاخ بھی فعال ہے۔ یہ ڈاک خانہ چونکہ اس زمانے کا ہے جب بازار گیدڑی میں تھا، اس لیے گیدڑ ی کے نام سے موسوم ہے۔ عام طور پر لوگ ایڈریس میں "ڈاک خانہ گیدڑی خیر آباد" کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ خیر آباد ایک قصبہ نما جگہ ہے جو :1۔پچاس پچپن دوکانوں، ہسپتال، دو پرائمری سکولوں، جامع مسجد اور اس میں غیر رہائشی بچوں کے لئے دینی مدرسہ پر مشتمل موضع ہے، اکثر ضروریات زندگی یہاں دستیاب ہیں ۔2۔خیر آباد بازار سے بالکل متصل آبادی کوئی چار سو نفوس پر مشتمل ہو گی۔3۔نسبتا کم اتصال والی آبادی کوئی ہزار بارہ سو نفوس پر مشتمل ہوگی۔4۔دیگر آبادیوں کے واسطے سے مزید آبادیاں بھی متصل ہیں تاہم وہ جدا گانہ ناموں سے موسوم ہیں اور ایسی آبادیاں ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔5۔ خیر آباد کے محلے زنگون سے بجانب جنوب کوئی 130 میٹر کے فاصلے پر بانڈہ جلات خان میں ایک مارکیٹ واقع ہے اور ساتھ آبادی بھی پائی جاتی ہے اور وہاں سے 100 میٹر کے فاصلے پر اس رخ میں دوسری مارکیٹ بیلہ ڈب میں پائی جاتی ہے۔آج سے کوئی بارہ تیرہ برس پہلے مقامی علماء کی ایک مجلس منعقد ہوئی تھی تاکہ خیر آباد میں صحت جمعہ کے حوالے سے غور کیا جائے۔ اس مجلس میں یہ اتفاق ہوا تھا کہ ایک استفتا مرتب کر کے ملک کے بڑے اداروں کو بھیجا جائے۔ چنانچہ استفتاء مرتب کر کے ایک مولانا صاحب کے حوالے کیا گیا، مگر جوابات آنے سے پہلے مقامی علماء میں سے اکثریت نے یہاں جمعہ کی نماز شروع کی جس کی وجہ سے دیگر علماء خاموش رہے اور آج تک وہ یہاں جمعہ نہیں پڑھتے ۔ اداروں سے کیا جواب موصول ہو ا تھا، یہ بھی معلوم نہ ہو سکا۔ بندہ سمیت کچھ علما نے یہاں جمعہ پڑھنے سے احتراز کیا۔ دیکھا دیکھی عوام الناس میں سے بھی کچھ حضرات نے جمعہ نہ پڑھنے والوں کے عمل کو دیکھ کر یہاں جمعہ و عیدین ادانہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس دوران بندہ سے جو شخص جمعہ کی صحت کے بارے میں سوال پوچھتا توان کو یہ جواب دیتا کہ جس رائے پر اعتماد ہو، اس کے مطابق جمعہ پڑھنے یا نہ پڑھنے کا فیصلہ کریں۔آپ سے گزارش ہے کہ مندرجہ بالا تفصیل کی روشنی میں بتائیں کہ: خیر آباد میں جمعہ کی نماز پڑھناشر مادرست ہے یا نہیں؟ اگر خیر آباد میں جمعہ کی نماز پڑھنا درست ہے تو یہ جواز صرف اسی بازار والے حصے تک محدود ہو گا یا کہ گیدڑی وغیرہ میں بھی یہی حکم ہوگا؟
جواب
واضح رہے کہ نمازِ جمعہ کے جواز کے لیے دیگر شرائط کی طرح ایک شرط شہریا فناء شہر کا ہونا بھی ہے،اور بڑا گاؤں بھی شہر کے حکم میں داخل ہے ، لیکن شہر یا بڑے گاؤں کی کوئی ایسی حد مقرر نہیں ، جس کو حتمی قرار دیا جائے ، بلکہ یہ زمانے کے اعتبار سے بدلتا رہتا ہے، ہر زمانے کے فقہا نے اپنے عرف کے مطابق اس کی تعریف کی ہے ،موجودہ زمانے میں جس جگہ کی مستقل آبادی دو ڈھائی ہزار ہو ،اور وہاں ضروریاتِ زندگی کا سامان بھی موجود ہو ، تو اس کو بڑا گاؤں کہہ سکتے ہیں ، اور جس طرح بڑے گاؤں میں نمازِ جمعہ جائز ہے اسی طرح اس کے مضافات میں بھی جائز ہے۔نیز جو علاقے کسی شہر کے ساتھ اس طرح وابستہ ہو ں کہ ان کی ضروریات اس سے متعلق ہوں ،اور غمی خوشی میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہوتے ہوںاور عرف یا سرکاری کاغذات میں ایک سمجھے جاتے ہوں تو ان میں بھی جمعہ پڑھنا جائز ہے۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق مذکورہ تفصیل کی بنا پر چونکہ "خیرآباد" اور اس کے ساتھ متصل علاقہ جات اور محلات کی آبادی دوہزار سے متجاوز ہے اور یہاں پر ضروریاتِ زندگی بھی دستیاب ہیں، اس لیے یہاں اور اس کے ساتھ وابستہ آبادیوں میں نمازِ جمعہ پڑھنا جائز ہے۔
أما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، کتاب الصلوۃ، فصل في الجمعة، ج:2، ص:188)
(ويشترط لصحتها) سبعة أشياء:الأول: (المصر... أو فناؤه) (وهو ما) حوله (اتصل به) أو لاكما حرره ابن الكمال وغيره (لأجل مصالحه) كدفن الموتى وركض الخيل والمختار للفتوى تقديره بفرسخ ذكره الولوالجي.(ردالمحتار علی الدرالمختار، كتاب الصلوة، ج:2، ص:138)