بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
جرگے کے ذریعے مہر کو متعین کرنا
سوال
ہمارے یونین جرگے میں یہ فیصلہ ہوا ہے کہ جو بھی نکاح کرے گا اس کا مہر تین لاکھ روپے کے اندر اندر مقرر ہو گا یعنی کوئی بھی حق مہر کو چار لاکھ مقرر نہیں کر سکتا ہے۔ نیز یہ کہ مہر عورت کا حق ہے نہ کہ علاقے کے مشران کا ۔اگر دوسری طرف دیکھا جاے تو مہر کے زیادہ ہونے اور فضول رسومات کی وجہ سے نکاح بہت مشکل ہو چکا ہے جس کی وجہ سے لواطت اور زنا بہت عام ہوچکا ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ کیا جرگے کے ذریعے سے مہرکو متعین کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ مہر کی کم از کم مقدار دس درہم ہے(یعنی 2 تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی )اور زیادہ کی کوئی تحدید نہیں، لہذا جتنی مقدار پر بھی میاں بیوی راضی ہو جائيں اس کو مہر مقرركيا جا سكتاہے۔
لہذاصورت مسؤلہ کے مطابق اگر کسی قوم نے اس بات پر اتفاق کیا ہو کہ تین لاکھ روپے سے زیادہ مہر مقرر نہیں کریں گے، تو اگر اس کا مقصد تغیر حکم شرعی نہ ہو ،بلکہ صرف لوگوںکو مشورہ دینا ہو یا انتظامی نوعیت کا فیصلہ ہو ، تاکہ لوگوں کو نکاح کرنے میں آسانی ہو، تو شرعًااس کی گنجائش ہے ،تاہم اگر اس کا مقصد شرعی پابندی لگانا ہو تو کسی کو اس کا اختیا ر حاصل نہیں ۔
عن مسروق قال: ركب عمر بن الخطاب منبر رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال: أيها الناس ما إكثاركم في صداق النساء وقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه، وإنما الصدقات فيما بينهم أربع مائة درهم فما دون ذلك، فلو كان الإكثار في ذلك تقوى عند الله عز وجل أو مكرمة لم تسبقوهم فلا أعرفن ما زاد رجل صداق على أربع مائة درهم.قال: ثم نزل فاعترضته امرأة من قريش. فقالت: يا أمير المؤمنين نهيت الناس أن يزيدوا النساء في صدقاتهن على أربع مائة درهم؟ قال: نعم.قالت: أما سمعت ما أنزل الله عز وجل في القرآن؟ فقال: فأنى ذلك؟ فقال: أما سمعت الله عز وجل يقول: {وآتيتم إحداهن قنطارا فلا تأخذوا منه شيئا أتأخذونه بهتانا وإثما مبينا} [النساء: 20] .فقال: اللهم غفرانك.كل الناس أفقه من عمر.
قال: ثم رجع فركب المنبر فقال: أيها الناس إني قد نهيتكم أن تزيدوا النساء في صدقاتهم على أربعمائة درهم فمن شاء أن يعطي من ماله ما أحب. قال أبو يعلى: وأظنه قال: فمن طابت نفسه فليفعل. (المقصد العلی في زوائد أبي يعلى الموصلي لنورالدين الهيثمی، كتاب النكاح، باب في الصداق، ج:2،ص:335)
وأقل المهر عشرة دراهم. (الهداية في شرح بداية المبتدي، فصل فی الوکالة بالنكاح وغيره، ج:3، ص:53)
وقد وقع الإجماع على أن المهر لا حد لأكثره بحيث تصير الزيادة على ذلك الحد باطلة للآية. (نيل الأوطار شرح منتقى الأخبار، كتاب الصداق، باب التزويج علی القليل والكثير واستحباب القصد فيه، ج: 6، ص: 201(
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں