بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ادعیہ منقولہ كے ذريعےعلاج كرنا


سوال

 صورتِ مسئلہ علاج بالدواء کلونجی، شہد مختلف بیماریوں کا علاج ہے معالجے کےطورپرعجوہ کھجورامراضِ قلب کیلئے حضورﷺ نے تجویزفرمایا جواحادیث مبارکہ سےثابت ہے لیکن حضورﷺ کا ذاتی عمل کثرت سےاحادیث میں موجود ہے:1:عن عائشة ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یرقی...،الخ بخاری شریف 2:اللہم رب الناس اذهب الباس اشف انت الشافی الخ بخاری شریف 3:عن عائشہؓ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان اذا اشتکی...،الخ مسلم شریف 4:عن ابن عباسؓ قال بت عند خالتی میمونۃؓ...،الخ صحیح بخاری شریف 5:عن ابن عباس ...،فقرأ بفاتحۃ الکتاب علی شاء فبراء...،الخ صحیح البخاری 6:عبد اللہ ابن عباسؓ فرماتے ہیں ایک عورت حضورﷺ کی خدمت میں بچہ لائی کہ اس کو جنات کا دورہ پڑتا ہے حضورﷺ نےدعا فرمائی اوربچہ کےسینے پر ہاتھ پھیرا بچہ نے کتے کی طرح قےکیا بچہ بالکل بھلا ہو گیا مسند احمد 7: ام ابان بنت وازع سے روایت ہے حضرت زارع حضورﷺ کی خدمت میں شکایت لائی کہ میرے بیٹےکوآسیب کا سایہ ہے حضورﷺ نے بچہ بلوایااورالٹا لٹا دیااورپیٹھ پرمارنا شروع کر دیا اورحکم دیا اللہ کے دشمن نکل جا۔ تھوڑی دیر بعد بچہ ٹھیک ہوگیا مجمع الزوائد 8:حضرت سماک یا ابودجانہؓ نے حضورﷺ کی خدمت میں شکایت کی کہ رات کوایک جن پریشان کرتا ہےحضورﷺ نےحضرت علیؓ سےجنات کےنام ایک خط لکھوایا (حفاظتی تعویذ)اس کو تکیے کےنیچے رکھیں رات کو جن چیختا چلاتا رہا صبح حضورﷺ کی اجازت سے جن کو چھوڑڈالا۔۔۔ وہ نامہ مبارک یہ ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم ہذا کتاب من محمد رسول اللہ یا بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ هَذَا كِتَابٌ مِّنْ مُحَمَّدٍ رَّسُولِ اللّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ اِلٰى مَنْ يَّطْرُقُ الدَّارَ...،الخ دلائل النبوۃ امام بیہقی 9:جلیل القدرصحابی حضرت عبداللہ بن مسعود أعوذ بکلمات اللّٰہ التامات...،الخ بالغ بچوں کو پڑھنے کی تلقین کرتے چھوٹے بچوں کے گلے میں لکھ کرڈالتے... الخ جامع ترمذی۔ خلاصہ دونوں طریقوں سےعلاج کا جوازثابت ہے کچھ اہل علم دوسرے طریقے علاج کی تحقیراورتضحیک کرتے ہیں اورنازیبا الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں کہتے ہیں اس سے عقائد کمزور ہو جاتے ہیں اورتقویٰ کے خلاف ہے اوردوائی سنت علاج ہے؟سوال یہ ہے کہ ان دونوں طریقوں میں سنت کے زیادہ قریب کونسا طریقہ اصلاح ہے؟

جواب

واضح رہے کہ دم کےذریعے یاکھانےکی بعض اشیاء کےذریعےسےعلاج کرنا احادیث مبارکہ سے ثابت ہے جیساکہ سوال میں مذکور بعض احادیث سے واضح ہے،لہٰذا دونوں کا استعمال کرنا جائزہے،اس سے عقائد بالکل کمزورنہیں ہوتےاوراس سے آدمی کے تقوی پربھی کوئی منفی اثرنہیں پڑتا کیونکہ یہ توکل کے منافی نہیں۔ نیز یہ بھی واضح رہے کہ حدیث مبارک '' إن الرقى والتمائم والتولة شرك'' میں جودم تعویذ وغیرہ سے ممانعت آئی ہےتواس کی بنیادی وجہ غیراللہ سےمدد مانگنا یا اس تعویذ کومؤثربالذات سمجھنا یا اس میں شرک اورجادوکاموجود ہوناتھا۔

 

عن عائشة رضي الله عنها:أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، كان إذا أتى مريضا أو أتي به، قال: (أذهب الباس رب الناس، اشف وأنت الشافي، لا شفاء إلا شفاؤك، شفاء لا يغادر سقما).(صحيح البخاري، رقم الحدیث:5351، ج:5، ص:7214)

أخبرنا عامر بن سعد، عن أبيه رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: (من اصطبح كل يوم تمرات عجوة، لم يضره سم ولا سحر ذلك اليوم إلى الليل). وقال غيره: (سبع تمرات).(صحيح البخاري، رقم الحدیث:5435، ج:5، ص:2176)

عن ابن مسعود رفعه: إن الرقى والتمائم والتولة شرك، وفي الحديث قصة، والتمائم جمع تميمة، وهي خرز أو قلادة تعلق في الرأس، كانوا في الجاهلية يعتقدون أن ذلك يدفع الآفات، والتولة بكسر المثناة وفتح الواو واللام مخففا شيء كانت المرأة تجلب به محبة زوجها، وهو ضرب من السحر، وإنما كان ذلك من الشرك؛ لأنهم أرادوا دفع المضار وجلب المنافع من عند غير الله، ولا يدخل في ذلك ما كان بأسماء الله وكلامه؛ فقد ثبت في الأحاديث استعمال ذلك قبل وقوعه،.....، أنه صلى الله عليه وسلم كان إذا أوى إلى فراشه ينفث بالمعوذات، ويمسح بهما وجهه. الحديث، ومضى في أحاديث الأنبياء حديث ابن عباس أنه صلى الله عليه وسلم كان يعوذ الحسن، والحسين بكلمات الله التامة، من كل شيطان وهامة، الحديث،.....،وقال القرطبي: الرقى ثلاثة أقسام، أحدها ما كان يرقى به في الجاهلية مما لا يعقل معناه فيجب اجتنابه؛ «لئلا يكون فيه شرك أو يؤدي إلى الشرك. الثاني: ما كان بكلام الله أو بأسمائه فيجوز، فإن كان مأثورا فيستحب.الثالث: ما كان بأسماء غير الله من ملك أو صالح أو معظم من المخلوقات كالعرش، قال: فهذا ليس من الواجب اجتنابه ولا من المشروع الذي يتضمن الالتجاء إلى الله والتبرك بأسمائه فيكون تركه أولى.(فتح الباري بشرح البخاری،ج:10، ص:196)


فتویٰ نمبر : 6657/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں