بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

کسی کے بلاک شدہ اکاؤنٹ میں رقم جمع کروانے سے ضمان کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص(مشتری) دوسرے شخص (بائع)سےمال خرید لےاوربائع ثمن کی ادائیگی کے لیے مشتری کوایک مخصوص اکاؤنٹ نمبر دے دے کہ اس میں رقم جمع کردولیکن بعد ازاں بائع مشتری کوواٹس ایپ پر پیغام (وائس میسج) کے ذریعے اطلاع دےدے کہ مذکورہ اکاؤنٹ میں رقم نہ بھیجی جائےکیونکہ وہ بلاک ہے،فون کال بھی کرے، لیکن مشتری اپنی مصروفیات کی بنا پرنہ توواٹس ایپ پیغام دیکھ سکے، نہ وائس میسج سن سکے، اورنہ ہی فون کال وصول کر سکےاورمشتری بتائے گئے اکاؤنٹ میں رقم جمع کروا دے تو اس صورت میں اس رقم کے ضیاع کا ذمہ دار کون ہوگا؟ کیا یہ نقصان مشتری پرہوگا یا بائع کا شمارہوگا؟ نیزکیا مشتری پردوبارہ ادائیگی لازم ہوگی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت مطہرہ کی روسے وکیل کاقبضہ مؤکل کاقبضہ متصورہوتا ہے چنانچہ کسی کےوکیل بالقبض کوحوالگی اس مؤکل کو حوالگی شمارہوگی۔ نیزیہ بھی واضح رہے کہ کسی شخص کا دوسرے سے یہ کہنا کہ میری رقم(دین) میرے بینک اکاؤنٹ میں جمع کردو،یہ دراصل بینک کو دین کی وصولی کا وکیل بنانا ہے چنانچہ اگرمدیون اس کے بینک اکاؤنٹ میں رقم جمع کرادے اوردائن کے اکاؤنٹ میں جمع ہوجائےتواس سے مدیون کا ذمہ فارغ ہوجاتاہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق جب بائع ،مشتری کو ثمن کی ادائیگی کے لیے ایک مخصوص اکاؤنٹ نمبردےدےتودرحقیقت وہ بینک کو وکیل بالقبض بنارہاہے چنانچہ جب مشتری اس اکاؤنٹ میں رقم جمع کرادے اوراس اکاؤنٹ میں رقم جمع بھی ہوجائےتواس سےمشتری  کاذمہ فارغ ہوجائےگا۔ اگرچہ اکاؤنٹ بلاک ہی کیوں نہ ہوکیونکہ یہ نمبربائع نے خود ہی دیا ہےچنانچہ مشتری پردوبارہ ادائیگی شرعا لازم نہیں ہوگی اوراگرمشتری، بائع کواکاؤنٹ نمبردینے کے بعد مطلع کردے کہ اس اکاؤنٹ میں رقم نہ بھیجوکیونکہ وہ بلاک ہے تواگرمشتری تک یہ اطلاع پہنچ جائے اور پھربھی وہ اس بلاک شدہ اکاؤنٹ میں رقم جمع کروائےتواس پرضمان ہوگا کیونکہ بائع نےمشتری کووکیل کی معزولی کی خبردی اورمشتری نےوکیل کی معزولی کے بعد اس کودین حوالہ کیاتومشتری پر ضمان لازم ہوگا تاہم اگراس کو بروقت اطلاع نہ ملی اوراس نے رقم بھیج دی توپھرضامن نہیں ہوگا۔

 

قال: وإذا قبض الوكيل برئ الذي عليه الأصل منه، فكان ما قبضه الوكيل ملكا لصاحب الدين وأمانة في يد الوكيل، يضمن بما يضمن به الوديعة؛ لأن الوكيل قام مقام الموكل في القبض، فكما لو قبض الموكل برئ المطلوب، كذلك قبض الوكيل. (شرح مختصر الكرخي، ج:8، ص:152)

قبض الوكيل بمنزلة قبض الموكل من حيث إن الوكيل في القبض عامل للموكل.ألا ترى أنه لو هلك في يد الوكيل كان بمنزلة ما لو هلك في يد الموكل فكأنها كسدت في يد الموكل. (المحيط البرهاني، ج:7، ص:204)

قال (وللموكل أن يعزل الوكيل عن الوكالة) لأن الوكالة حقه فله أن يبطله، إلا إذا تعلق به حق الغير.(العناية شرح الهداية،ج:8،ص:137)

وإن كان ضاع في يده لم يرجع عليه لأنه بتصديقه اعترف أنه محق في القبض وهو مظلوم في هذا الأخذ والمظلوم لا يظلم غيره.(وإن كان ضاع في يده) ش: أي وإن كان ضاع المال في يد الوكيل م: (لم يرجع عليه) ش: أي لم يرجع المديون على الوكيل، م: (لأنه) ش: أي لأن المديون م: (بتصديقه) ش: أي بتصديق الوكيل م: (اعترف أنه) ش: أي الوكيل م: (محق في القبض وهو) ش: أي المديون م: (مظلوم في هذا الأخذ) ش: أي أخذ رب الدين ثانيا. (البناية شرح الهداية، ج:9، ص:299)


فتویٰ نمبر : 4054/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں