بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

میٹر ریڈر کو ریڈنگ کم لکھنے کے لئے پیسے دینا


سوال

میٹرریڈر کو ریڈنگ کم لکھوانے کے لئے کچھ پیسے دینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

بجلی قانوناً حکومت کی ملکیت ہے جس سے ملک کے اجتماعی مفادات وابستہ ہیں، ملکی قوانین کے تحت اس کو صارفین پر فروخت کیا جاتا ہے، لہذا صارفین کے حق میں دیانت یہی ہےکہ جتنی بجلی خرچ کریں، اس کا پورا بل حکومت کو ادا کریں، ورنہ بجلی چوری کرنا قانونی خلاف ورزی ہونے کے ساتھ ساتھ شرعاً بھی جرم متصور ہوگا اور ایسا شخص گناہگار ہوگا۔

صورت مسؤلہ میں صارف کا میٹر ریڈر کو ریڈنگ کم لکھوانے کے لئے پیسے دینا رشوت کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ ریڈنگ کم لکھوانے کی صورت میں اس صارف کے نام پرماہانہ بل اصل خرچ سے کم بھجوایا جائے گا جس سے اجتماعی مفاد کو نقصان پہنچتا ہے، لہذا پیسے دینے والے صارف اور لینے والے میٹر ریڈر کا یہ لین دین رشوت ہے، جو حدیث شریف کی رو سے دونوں کے حق میں موجب لعنت اور حرام ہے۔

 

عن عبدالله بن عمرؓ  قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشی.(سنن أبي داود، كتاب القضاء،كراهيةالرشوة،ج:2، ص:148)

وفي المصباح الرشوة بالكسر ما يعطيه الشخص الحاكم وغيره ليحكم له أو يحمله على ما يريد.(رد المحتار علی الدر المختار، کتاب القضاء،مطلب فی الکلام علی الرشوۃ والهدية، ج:3/362) 


فتویٰ نمبر : 6618/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں