بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

رضاعی ماں کی چھوٹی بیٹی سے نکاح کرنا


سوال

ایک عورت نے ایک  لڑکے کو دودھ پلایا ہے اس  وقت اس عورت کی ایک بیٹی بھی  دودھ پی رہی تھی اس کے بعد اس عورت کے دوسری بیٹی پیدا ہوئی ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا اس  دوسری بیٹی کا نکاح اس لڑکے  کے ساتھ جائز ہے یا نہیں؟  

جواب

جب کوئی عورت کسی لڑکے کو دودھ پلائے تو یہ بچہ اس عورت کارضاعی بیٹا بن جاتا ہے جس پر مرضعہ اور اس کے تمام اصول وفروع حرام ہو جاتے ہیں۔

صورت مسئولہ میں جس عورت نے اس لڑکے کودودھ پلایا ہے تو یہ اس لڑکے  کی رضاعی ماں بن گئی ہے جبکہ اس عورت کی سب اولاد اس لڑکے کے رضاعی بہن بھائی بن گئے، لہذا اب اس لڑکے کا نکاح اس عورت کی تمام بیٹیوں کے ساتھ  حرام ہے، چاہے وہ اس کی ہم عمر ہو یا کم عمر والی یا زیادہ عمر والی۔

 

حدثنا قتيبة بن سعيد. حدثنا ليث. ح وحدثنا محمد بن رمح. أخبرنا الليث عن يزيد بن أبي حبيب، عن عراك، عن عروة، عن عائشة؛ أنها أخبرته؛ أن عمها من الرضاعة يسمى أفلح. استأذن عليها فحجبته. فأخبرت رسول الله صلى الله عليه وسلم. فقال لها "لا تحتجبي منه. فإنه ‌يحرم ‌من ‌الرضاعة ‌ما ‌يحرم ‌من النسب ۔(صحيح مسلم 2/ 1070)

ولو أن امرأتين لإحداهما بنون وللأخرى بنات فأرضعت التي ‌لها ‌البنات ‌ابنا ‌واحدا من بني المرأة التي لها البنون لم يكن لذلك الابن بعينه أن يتزوج بشيء من بنات تلك المرأة أحدا( الأصل لمحمد بن الحسن: ج:4، ص:378)


فتویٰ نمبر : 7379/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں