بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نامحرم کے گھر میں قیام کرنا


سوال

 نیوزی لینڈ میں ہمارے گھرمیں ایک مطلقہ رہتی ہے اس کا کوئی محرم نہیں ہے اور میرے کل تین بچے ہیں سب سے بڑے کی عمرساڑھے گیارہ سال ہے تو کیا اس عورت کا ہمارے ساتھ رہنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شرعی پردہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہےاس لئے عورت کے لئے ہر اس مرد سے پردہ ضروری ہے جواس کے حق میں نامحرم ہو یعنی اس سے فی الحال یا مستقبل میں نکاح کرنا جائز ہو۔ تاہم اگر کوئی عورت کسی واقعی عذر کی وجہ سے نامحرم کے گھر میں رہتی ہو تو ایسی صورت میں اس بات کا خاص اہتمام رکھنا ضروری ہے کہ وہاں کے نامحرم مردوں کےسامنے نہ آئے اور نہ کسی موقع پر ا س کے ساتھ خلوت میں رہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر یہ مطلقہ عورت کسی واقعی مجبوری کی وجہ سے سائل کے گھر میں رہ رہی ہو تو اس کی گنجائش ہے تاہم نامحرم ہونے کی وجہ سے سائل اور دیگر نامحرم مردوں کے سامنے آنے کی یا ان سے اختلاط کی اجازت نہیں۔

 

قال الله تعالى:(يا أيها النبي قل لأزواجك وبناتك ونساء المؤمنين يدنين عليهن من جلابيبهن)...قال ‌أبو ‌بكر: ‌في ‌هذه ‌الآية دلالة على أن المرأة الشابة مأمورة بستر وجهها عن الأجنبيين. (أحكام القرآن للجصاص،ج:3، ص:485)

عن أم سلمة قالت:كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم وعنده ميمونة، فأقبل ابن أم مكتوم وذلك بعد أن أمرنا بالحجاب فقال النبي صلى الله عليه وسلم: احتجبا منه فقلنا:يا رسول الله أليس أعمى لا يبصرنا، ولا يعرفنا فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ‌أفعمياوان أنتما ألستما تبصرانه؟ (سنن ابو داود، رقم الحديث:4112)


فتویٰ نمبر : 6619/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں