بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

تقسیم میراث سے پہلے ترکہ سے قرض کی ادائیگی


سوال

گزارش یہ ہے کہ: ہمارے والد رحمہ الله کا انتقال ہواہےاور ان کے ذمہ کچھ قرض تھا، جبکہ ترکہ بھی موجود تھا۔ والد مرحوم نے اپنی زندگی میں ہی اپنے چاروں بیٹوں کو الگ کر دیا تھا اور ہر بیٹا اپنے اخراجات کا خود ذمہ دار تھا۔ والد مرحوم کے انتقال کے بعد ایک بیٹے نے جنازے کے موقع پر اعلان کیا کہ اگر مرحوم کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو وہ معاف کر دے، ورنہ ہم سے رابطہ کرے تاکہ ہم ادائیگی کریں۔ اس وقت باقی تمام بھائی بھی موجود تھے اور کسی نے انکار نہیں کیا۔ بعد میں جب قرض خواہوں نے مطالبہ کیا تو اسی بیٹے نے اپنی ذاتی رقم سے قرض ادا کیا، اور اس دوران وہ اپنے بھائیوں کو بھی بتاتا رہا کہ فلاں شخص نے قرض مانگا ہے اور اس کو ادا کیا جا رہا ہے۔ اب ترکہ شرعی طریقے سے 14 حصوں میں تقسیم ہوا ہے۔ اب وہ بیٹا جس نے قرض ادا کیا ہے، یہ کہتا ہے کہ: "میں نے والد مرحوم کا قرض اپنی جیب سے ادا کیا ہے، حالانکہ قرض ترکہ سے ادا ہونا چاہیے تھا، اس لیے ترکہ کی تقسیم سے پہلے مجھے وہ رقم واپس دی جائے۔ یہ مناسب نہیں کہ فائدہ سب لیں اور نقصان ایک برداشت کرے۔" دریافت طلب امر یہ ہے: 1-کیا اس بیٹے کا اپنی ادا کردہ رقم ترکہ سے واپس لینے کا مطالبہ درست ہے؟ 2-کیا پہلے وہ رقم ترکہ سے نکالی جائے گی، پھر باقی تقسیم ہوگا؟ یا باقی بھائی اپنے حصے کے مطابق اسے رقم ادا کریں گے؟ براہِ مہربانی شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

شریعتِ مطہرہ کی رو سے میت کے انتقال کے بعد اس کے ترکہ سے سب سے پہلے تجہیز و تکفین کے اخراجات  پورے کیے جاتے ہیں، اس كے بعد جو مال بچ جائے، اس سے سب سے پہلے وہ دین اور قرض ادا کیا جائے گا جو متوفی کے ذمہ لازم تھا، اس کے بعد جو بچ جائے اگر میت نے کوئی وصیت کی ہو توایک تہائی حصہ میں وصیت نافذ کی جائے گی، اور اس کے بعد جو مال بچ جائے تو میت کے ورثا میں  تقسیم کیا جائےگا۔

 صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعتاً ایک  بیٹے نے والد کے  جنازے کے موقع پر اعلان کیا اور بعد میں ان کے ذمے لازم قرضوں کی ادائیگی کے وقت وہ بھائیوں کو مطلع کرتا رہا، تو اس کا یہ عمل تبرع، احسان یا اپنی طرف سے ہدیہ شمار نہیں ہوگا،لہذا اس کا یہ مطا لبہ کرنا درست ہے کہ تقسیمِ ترکہ سے پہلے اپنی وہ رقم وصول کرے، جو اس نے مرحوم والد کے قرضوں میں ادا کی ہے، اور اس کے بعد جو ترکہ بچ جائے اس کو ورثاء میں تقسیم کیا جائے۔

 

وَقَوْلُهُ: {مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ} أَجْمَعَ الْعُلَمَاءُ سَلَفًا وَخَلَفًا: أَنَّ الدَّيْن مُقَدَّمٌ عَلَى الْوَصِيَّةِ، وَذَلِكَ عِنْدَ إِمْعَانِ النَّظَرِ يُفْهَمُ مِنْ فَحْوَى الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ. وَقَدْ رَوَى الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَأَصْحَابُ التَّفَاسِيرِ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَعْوَرِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ [رضي الله عنه] قَالَ: إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ {مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ} وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ. (تفسير ابن كثير، ج:2،  ص:228)

قال علماؤنا رحمهم الله :تتعلق بتركة الميت حقوق أربعةمرتبة:الأول:يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غير تبذير ولا تقصير،ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله، ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما بقي بعد الدين، ثم يقسم الباقي بين ورثته بالكتاب السنة و إجماع الأمة۔(السراجي في الميراث، كتاب الفرائض، الحقوق المتعلقة بتركة الميت، ص: 5)

التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث.(الفتاوى الهندية، كتاب الفرائض، الباب الثاني في ذوي الفروض، ج:6، ص:447)


فتویٰ نمبر : 3821/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں