بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اقرار سے رضاعت كا ثبوت


سوال

میری والدہ اور میری رضاعی ماں دونوں اس بات کا اقرار کرتی ہیں کہ انہوں نے مجھے دودھ پلایا ہے اب دو عورتوں کی گواہی قبول ہوگی یا نہیں اگر یہ گواہی قبول نہ ہو، تو کیا میں اس لڑکی سے نکاح کر سکتا ہوں جو میری رضاعی بہن کہلاتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  رضاعت دو چیزوں سے ثابت ہوتی ہے ایک اقرار اور دوسری بینہ یعنی دو عادل مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی سے، تاہم اگر کسی ایک مرد یا عورت کی بات سے دل میں یہ گمان پیدا ہو جائے کہ یہ بات سچ ہوگی، تو نکاح سے پہلے اس پر اعتماد کرتے ہوئے شادی سے پرہیز کرنا چاہیے، لیکن نکاح کے بعد حرمت رضاعت کے ثبوت کے لیے اقرار يا دو گواہوں کا ہونا ضروری ہے۔

صورتِ مسئولہ میں جب سائل یہ کہتا ہے " کہ میری والدہ اور میری رضاعی ماں دونوں اس بات کا دعوی کرتی ہیں کہ اس عورت نے مجھے دودھ پلایا ہے"تو گویا یہ درحقیقت سائل کا اپنے اوپر اقرار ہے کہ وہ میری رضاعی ماں ہے، اور آدمی کے خود اقرار کرنے سے رضاعت ثابت ہو جاتی ہے لہذا رضاعت کے ثابت ہونے کی وجہ سے سائل کے لیے اس رضاعی ماں کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز نہیں۔

 

الرضاع يظهر بأحد أمرين أحدهما الإقرار والثاني البينة كذا في البدائع ولا يقبل في الرضاع إلا شهادة رجلين أو رجل وامرأتين عدول. (الفتاوى الهندية، كتاب الرضاع، ج:1، ص 347)

أما الإقرار فهو أن يقول لامرأة تزوجها: هي أختي من الرضاع أو أمي من الرضاع أو بنتي من الرضاع ويثبت على ذلك ويصبر عليه فيفرق بينهما؛ لأنه أقر ببطلان ما يملك إبطاله للحال فيصدق فيه على نفسه، وإذا صدق لا يحل له وطؤها والاستمتاع بها فلا يكون في إبقاء النكاح فائدة فيفرق بينهما سواء صدقته أو كذبته؛ لأن الحرمة ثابتة في زعمه وكذلك إذا أقر الزوج بهذا قبل النكاح فقال هذه أختي من الرضاع أو أمي أو ابنتي وأصر على ذلك وداوم عليه؛ لا يجوز له أن يتزوجها ولو تزوجها يفرق بينهما، ولو قال: أوهمت أو غلطت جاز له أن يتزوجها عندنا لما قلنا ولو جحد الإقرار فشهد شاهدان على إقراره فرق بينهما وكذلك إذا أقر بالنسب.(بدائع الصنائع، کتاب الرضاع، ج:4، ص:14)

ولا يجوز شهادة إمرأة واحدة على الرضاع أجنبية كانت، أوأم احد الزوجين فإن وقع قلبه صدق المخبر، فالأفضل أن يتنزه قبل العقد وبعده يسعها المقام معه،حتى يشهد على ذالك رجلان أو رجل و إمرأتان عدول، ولا يقبل شهادة النسآء وحدهن. (خلاصة الفتاوى، كتاب النكاح،الفصل الرابع في الرضاع، ج:2، ص:11)


فتویٰ نمبر : 7400/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں