بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

رزق کی فراخی کے لیے عمل


سوال

میں بہت دیر سے پریشان ہوں میں کپڑے کی دوکان میں کسی کے پاس ملازم کے طور پر کام کرتا ہوں، پیسے،مزدوری بھی بہت تھوڑی ملتی ہے میں اس کام کو چھوڑنا چاہتا ہوں لیکن کچھ سمجھ نہیں آرہا آگے کیا کروں ہروقت پریشان رہتا ہوں آپ سے درخواست ہے کہ میری رہنمائی فرمائیں مجھے کوئی ایسا وظیفہ اورعمل بتائیں جس سے اللہ تعالیٰ مجھے اپنے خزانہ غیب سے آسانی والا کشادہ اور وسیع رزق دے۔

جواب

واضح رہے کہ یہ دنیا دار الامتحان ہے، اس میں اللہ تعالی بندہ پر مختلف قسم کے حالات لاتے ہیں کبھی اللہ تعالی بندہ کو رزق کی فراخی سے ازماتا ہے کہ میرا بندہ شکر کرتا ہے یا نہیں اور کبھی رزق کی تنگی سے ازماتا ہے کہ میرا بندہ صبر کرتا ہے یا نہیں، لہذا ہر حالت میں صبر اور شکر کرنا چاہئے اور اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہونا چاہئے، اور اپنے گناہوں پر توبہ اور استغفار کرنا چاہئے، کیونکہ استغفار سے اللہ تعالی ہر تنگی کو دور کرتا ہے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی استغفار کا التزام کر لے تو اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے اور ہر رنج سے نجات پانے کی راہ ہموار کر دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا، جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔

 

قال الله تعالى:﴿فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا  وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَارًا﴾ [نوح: 11-12] قال البغوي تحت هذه الآية: وروى مطرف عن الشعبي أن عمر رضي الله تعالى عنه خرج يستسقي بالناس، فلم يزد على الاستغفار حتى رجع، فقيل له: ما سمعناك استسقيت؟ فقال: طلبت الغيث بمجاديح السماء التي يستنزل بها المطر، ثم قرأ: استغفروا ربكم إنه كان غفارا يرسل السماءعليكم مدرارا. (تفسير البغوي،ج:5،ص:156)

عن ابن عباس أنه حدثه قال قال رسول الله صلى الله تعالى عليه وعلى آله وسلم من لزم الاستغفار جعل الله له من كل ضيق مخرجا ومن كل هم فرجا ورزقه من حيث لا يحتسب. (سنن أبو داود،باب في الاستغفار،رقم الحديث:1518)


فتویٰ نمبر : 6652/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں