بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

رضاعی ماموں کی نسبی بہن سے نکاح


سوال

ایک عورت ہے نورجہان، اس کا ایک  بیٹا ہے اور ایک بیٹی ہے، بیٹے کا نام عمران اور بیٹی کا نام شازیہ ہے۔ عمران کا ایک بیٹا(مہران) اور ایک بیٹی(افسانہ)ہےجو کہ نور جہان کا پوتا اور پوتی ہیں۔ جب کہ شازیہ کا ایک بیٹا مرتضی ہے۔ جو کہ نورجہان کا نواسہ ہے، اب ہوا یہ ہے کہ نورجہان نے اپنے پوتے( مہران ) کو دودھ پلایا جس سے مہران نورجہان کا رضاعی بیٹا بھی بن گیا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ شازیہ کا بیٹا (مرتضی) اپنے ماموں (عمران) کی بیٹی (افسانہ) سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔ شریعت کی روشنی میں اس نکاح کا حکم واضح کریں۔ نیز واضح رہے کہ عمران کی بیوی(منہاجا) شازیہ کے خاوند ظہیراللہ کی بہن ہے۔ اور ظہیراللہ کی بیوی(شازیہ) عمران کی بہن ہے۔ (جس کو پشتو میں بدل کہتے ہے)۔

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی عورت کسی بچے کو مدت رضاعت میں دودھ  پلائے تو وہ اس کی رضاعی ماں بن جاتی ہے اور اس کا شوہر اس کے لئے رضاعی باپ بن جاتا ہے، تاہم حرمت رضاعت کا حکم صرف دودھ پینے والے بچے تک محدود رہتا ہے اس کے بہن بھائیوں کی طرف متعدی نہیں ہوتا۔

صورت مسئولہ میں  نورجہان نے اپنے پوتے مہران کو دودھ پلايا تو مہران اس کا رضاعی بیٹا بن گیا ہے، تاہم اس رضاعت کا اثراس کی بہن افسانہ کی طرف متعدی نہیں ہوتا، لہذا مرتضیٰ کے لیے اپنے ماموں کی بیٹی افسانہ سے نکاح کرنا جائز ہے۔

 

ولوأن إمرأتين لأحدهما بنون وللأخرى بنات، فارضعت التى لها البنات ابنا واحدا من بني المرأة الأخرى لم يجز لذالك الابن أن يتزوج بتلك المرأة التي أرضعته ولا بواحد من بناتها، ويجوزلسائر البنين أن يتزوجوا تلك المرأة وبناتها أيتهن شاؤوا۔ الفتاوی التارتاخانية، (كتاب الرضاع،ج:4، ص:364)

 


فتویٰ نمبر : 7374/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں