بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/07/2026

دارالافتاء

 

شركت فاسده كی ایک صورت


سوال

زید اور بکر کے درمیان باہمی رضامندی سے مشترکہ طور پر پیاز کاشت کرنے کا معاہدہ طے پایا  اس طور پر کہ زید کے ذمے   پیاز کا بیج خریدنا اپنی زمین میں بیج بونا اور پنیری (نرسری) تیار کرنا کھاد، ادویات، ٹریکٹر اور دیگر زرعی اخراجات برداشت کرنا خود جسمانی محنت کرنا تمام اخراجات کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنا ہوگا، جبکہ بکر کے ذمہ تیار شدہ پنیری کو اپنی زمین میں منتقل کرنا اپنی زمین میں پیاز کی فصل کی مکمل نگہداشت اور تیاری کرنا تمام متعلقہ اخراجات (کھاد، ادویات، پانی، مزدوری وغیرہ) برداشت کرنا خود جسمانی محنت کرنا تمام اخراجات کا مکمل ریکارڈ رکھنا ہوگا، فصل تیار ہونے کے بعد زید اور بکر کے تمام اخراجات کو یکجا کیا جائے گا۔ پهر کل پیداوار (آمدنی) میں سے مجموعی اخراجات منہا کیے جائیں گے۔ باقی ماندہ منافع کو باہمی رضامندی سے طے شدہ فیصد کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔  نقصان کی صورت میں ہر فریق اپنے اپنے سرمایہ (اخراجات) کے تناسب سے نقصان برداشت کرے گا۔ کیا اس طرح کا معاہدہ جائز ہے ؟ اگر جائز نہیں تو جائز صورت حال بیان فرمائیے۔

جواب

واضح رہے کہ زید اور بکر کے درمیان مذکورہ معاہدہ نہ مزارعت کی کسی  جائز قسم میں داخل ہے، اور نہ مضاربت یا شرکت کی کسی قسم میں، اس لیے یہ  معاملہ جائز نہیں  ۔

 اس کی جائز صورت یہ ہو سکتی ہے، کہ  پہلے دونوں(زید، بکر) سرمایہ اکٹھا کریں، پھر مشترک مال سے پیاز کا تخم خرید کر اس کے بونے کے لیے کسی زمین کو قیمتاً خرید کر یا  کرایہ پر لے کر  پیاز کی پنیری تیار کریں ، پھر کاشت  کے لیے بھی کسی زمین کو اجارہ پر  لیں یا خرید لیں اور  پیاز کی فصل تیار ہونے تک  جتنے اخراجات آتے ہوں  وہ مشترک  مال سے ادا کریں ، آمدنی حاصل ہونے کے بعد اس سے  تمام اخراجات  نکال کر نفع آپس میں طے شدہ تناسب سے تقسیم کریں۔

 

كتاب الشركة (هي عبارة عن عقد بين المتشاركين في الأصل والربح) ...وشرط جوازها كون الواحد قابلا للشركة (وهي ضربان: شركة ملك، وهي أن يملك متعدد) اثنان فأكثر (عينا) أو حفظا كثوب هبه الريح في دارهما فإنهما شريكان في الحفظ قهستاني. (رد المحتار علی الدرالمختار، كتاب الشركة، ج:6، ص:466)

وأماشركة العقود فالكلام فيها يقع في مواضع: في بيان أنواعها وكيفية كل نوع منها... أما الأول: فشركة العقود أنواع ثلاثة: شركة بالأموال، وشركة بالأعمال، وتسمى شركة الأبدان وشركة الصانع، وشركة بالتقبل، وشركة بالوجوه. أما الأول: وهو الشركة بالأموال: فهو أن يشترك اثنان في رأس مال، فيقولان اشتركنا فيه، على أن نشتري ونبيع معا، أو شتى، أو أطلقا على أن ما رزق الله عز وجل من ربح، فهو بيننا على شرط كذا، أو يقول أحدهما: ذلك، ويقول الآخر: نعم. (بدائع الصنائع، كتاب الشركة، ج:7، ص:501)


فتویٰ نمبر : 4070/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں