بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

بیٹیوں کے درمیان زندگی میں جائیداد کی تقسیم


سوال

ايک شخص کی تین بیٹیاں اور دو بھائی ہیں اس کے پاس اپنی محنت سے کمائی ہوئی جائیداد ہےجو اسے اپنے والدین سے وراثت میں نہیں ملی اس جائیداد میں ایک کمرشل پلاٹ بھی ہے یہ شخص چاہتا ہے کہ اپنی زندگی میں بیٹیوں کو اس پلاٹ کا مالک بنا دے ۔ اب سوال یہ ہے کہ اس شخص کے لئے اپنی زندگی میں بیٹیوں کو اس کمرشل پلاٹ کا مالک بنانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

 واضح رہے کہ والد اگر زندگی میں اپنے مال وجائیداد کو اولاد کے درمیان تقسیم کر کے ان کو قبضہ بھی حوالہ کر دے  تو یہ اس کی  طرف سے   ہبہ شمار ہوگا۔ اس میں مستحب طریقہ یہ ہے کہ بیٹا ہو یا بیٹی ہو سب کو برابر دے، اس طرح والد ین  کو یہ بھی اختیار ہے کہ معقول و معتبروجہ  کی بنا پر کسی کے ساتھ ترجیحی سلوک کریں۔    

لہذا  صورت مسئولہ  کے مطابق  اگرکوئی شخص زندگی میں اپنا کمرشل  پلاٹ اپنی بیٹیوں کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو تقسیم کرسکتا ہے ۔

 

‌وينبغي ‌للرجل ‌أن ‌يعدل بين أولاده في النحلى. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الهبه، ج:6، ص:127)

وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم) .الدر المختار شرح تنوير الأبصار، ص562)


فتویٰ نمبر : 6614/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں