بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مجبوری کی صورت میں مناسکِ حج میں ترتیب کی رعایت


سوال

فقہ حنفی کے مطابق ایامِ نحر میں اعمالِ حج کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے رمیِ جمرہ عقبہ کی جائے، پھر قربانی کی جائے، اس کے بعد حلق یا قصر کیا جائے۔ اور اگر اس ترتیب کے خلاف عمل کیا جائے تو دم لازم آتا ہے۔ اس سال یہ صورت حال پیش آئی ہے کہ سعودی حکومت کی جانب سے قربانی کے لیے بینک کے ذریعے اجتماعی نظام قائم کیا گیا ہے، جس میں حجاج کرام سے پہلے ہی قربانی کی رقم وصول کر لی جاتی ہے اور پھر ان کی طرف سے قربانی کر دی جاتی ہے۔ جب حنفیہ کے نزدیک ترتیب (رمی، قربانی، حلق) ضروری ہے، تو بینک کے اس نظام میں ترتیب کے فوت ہونے کی صورت میں کیا حکم ہوگا؟ کیا ہر حاجی پر دم لازم ہوگا یا نہیں؟ اگر قوی احتمال یا معتبر ذریعے سے یہ معلوم ہو کہ قربانی ایامِ نحر کے اندر نہیں ہوئی، تو کیا ایسی صورت میں بینک کی قربانی پر اکتفا کرنا درست ہوگا یا حاجی پر لازم ہوگا کہ وہ اپنی طرف سے الگ قربانی کا اہتمام کرے؟ جبکہ اس سال سعودی حکومت کی طرف سے انفرادی طور پر مذبح (slaughterhouse) جانے یا خود قربانی کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی، تو ایسی مجبوری کی حالت میں حاجی کے لیے شرعی حکم کیا ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ 10ذی الحجہ کے مناسک حج میں سے رمی جمرہ عقبہ ،ذبح اور حلق  میں ترتیب کی رعایت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے ہاں واجب ہے، اس کے ترک کرنے پر دم واجب ہوتا ہے، جب کہ حضراتِ صاحبین اور جمہور ائمہ کرام رحمہم اللہ کے نزدیک یہ ترتیب سنت ہے اس لیے اس کے ترک کرنے سے دم واجب نہیں ہوتا ۔نیز یہ بھی واضح رہے کہ متمتع اور قارن حجاج اگر بینک کے ذریعے دم شکر ادا کرتے ہیں توایسی صورت میں ترتیب کی رعایت رکھنا ناممکن نہیں توانتہائی مشکل ضرور ہے، توایسی صورت میں اگر ترتیب کی رعایت مجبورا مفقود ہوجائےتوصاحبین کے قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے البتہ اگر ذاتی طورپرخود قربانی ممکن ہواور اس کی توفیق بھی ہوتو قربانی خود کرکے حکومت کو جمع کردہ رقم میں کوئی دوسری نیت کرسکتاہےورنہ حکومت کی قربانی پراکتفا کیاجاسکتاہے۔نیز ایام نحر (10،11،12 ذوالحجہ) میں قربانی کرنا لازم ہے حناف کے ہاں 12 ذی الحجہ کی شام تک قربانی کرنا ضروری ہے۔ اگر ان ایام سے مؤخر ہو جائے تو ذمہ فارغ نہیں ہوگا۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق جب حجاج حکومت کی طرف سے کسی سرکاری ادارے کے ذریعے قربانی کروانے پر مجبورہوں، جس کی وجہ سے رمی جمرہ عقبہ، ذبح اور حلق میں ترتیب کی رعایت نہ رکھ سکیں، تو مجبوراً ترتیب کی رعایت نہ رکھنے کی صورت میں صاحبین کے مذہب کے مطابق دم لازم نہ ہوگا۔ نیز اگر یقینی طور پریا ظنِ غالب سے معلوم ہو جائے کہ قربانی 12 ذی الحجہ سے مؤخر ہوگئی ہے تو حج تمتع و قران کرنے والے پر دو دم لازم ہوں گے ایک دم شکر اور ایک اس کے ایام سے مؤخر ہونے کی وجہ سے۔ تاہم اگر یقینی طورپر یا ظنِ غالب سے معلوم نہ ہو تو محض شک کی وجہ سے کوئی دم لازم نہیں ہوتا۔

 

فإن حلق قبل الذبح من غير إحصار فعليه لحلقه قبل الذبح دم في قول أبي حنيفة، وقال أبو يوسف، ومحمد، وجماعة من أهل العلم: أنه لا شيء عليه. (بدائع الصنائع، كتاب الحج، ج:3، ص:148)

(وواجبه)...( والترتيب الآتي) بيانه: (بين الرمي والحلق والذبح يوم النحر) وإنما يجب ترتيب الثلاثة الرمي ثم الذبح ثم الحلق لكن المفرد لا ذبح عليه فبقي عليه الترتيب بين الرمي والحلق. (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الحج، ج:3، ص:472)

الأمر إذا ضاق اتسع. والمفهوم من هذه القاعدة، أنه إذا شوهد ضيق و مشقة في فعل أو أمر يجب إيجاد رخصة و توسعة لذلك الضيق.(دررالحكام شرح مجلة الاحكام، المادة:18، ج:1، ص:36)

(ومنها) أنه تجزئ فيها النيابة فيجوز للإنسان أن يضحي بنفسه وبغيره بإذنه؛ لأنها قربة تتعلق بالمال فتجزئ فيها النيابة كأداء الزكاة وصدقة الفطر.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، ج:5، ص:67)

مصري وكل وكيلا بأن يذبح شاة له وخرج إلى السواد فأخرج الوكيل الأضحية إلى موضع لا يعد من المصر فذبحها هناك فلو كان الموكل في السواد جازت أضحيته عنه، ولو كان قد عاد إلى المصر وعلم الوكيل بقدومه لم تجز الأضحية عن الموكل بلا خلاف.(الفتاوى الهندية،ج:5، ص:297)

رجل دعا قصابا ليضحي له فضحى القصاب عن نفسه فهو عن الآمر، كذا في السراجية.( الفتاوى الهندية، ج:5، ص:303)

وأما زمانه فأيام النحر حتى لو ذبح قبلها لم يجز؛ لأنه دم نسك عندنا فيتوقت بأيام النحر كالأضحية. (البدائع الصنائع،كتاب الحج،ج:2،ص:174)

ویختص ذبح بالمکان وهو الحرم، وبالزمان و هو أیام النحر حتی لو ذبح قبلها لم یجز بالإجماع ولو ذبح بعد ها أجزأه بالإجماع، ولکن کان تارکا للواجب عند الإمام یجب بین الرمي والحلق ولا آخر له في حق السقوط. (غنیة الناسك، ص: 128)

ولو أخر القارن والمتمتع الذبح عن أیام النحر فعليه دم. (غنیة الناسك، ص: 149)

فإذا مضت ولم يصم فيها فقد فات الصوم وسقط عنه، وعاد الهدي، فإن لم يقدر عليه يتحلل، وعليه دمان: دم التمتع، ودم التحلل قبل الهدي. (البدائع الصنائع،كتاب الحج،ج:2،ص:173)


فتویٰ نمبر : 10966/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں