بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
رغبت جماع کے بغیر عورت کو ہاتھ لگانا
سوال
دارالافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور کا ایک فتویٰ ( فتویٰ نمبر : ) پڑھا حرمت مصاہرت کے بارے میں کہ جس عورت کو شہوت کے ساتھ چھوا ہے اس کے ساتھ رغبت جماع بھی ضروری ہے، مسئلہ یہ در پیش ہے کہ ایک عورت کی طلاق ہو چکی ہے اور اب دوبارہ نکاح کرنا ہے بچوں کی خاطر، لیکن طلاق کے بعد سسر نے چند بار عورت کو بری نیت سے ہاتھ لگایا ہے، سسر کے اس بارے میں حلفاً یہ بیان ہے کہ، ہاتھ بنا کسی حائل کے لگایا تھا، اور ہاتھ لگانے سے انتشار ہوا تھا لیکن ہاتھ لگاتے وقت مجامعت کی خواہش موجود نہیں تھی، اور نہ ہی جماع کا ارادہ تھا، اس صورت میں کیا اس عورت کا نکاح دوبارہ اپنے شوہر سے درست ہے؟
جواب
واضح رہے کہ کوئی شخص کسی عورت کو شہوت سے چھوتا ہے، تو اس سے حرمت مصاہرت کے ثبوت کے لیے جو شرائط بیان کی گئی ہیں، ان میں سے شہوت کے ساتھ رغبت جماع کا ہونا بھی ضروری ہے، صرف شہوت کا ہونا کافی نہیں۔
صورت مسئولہ میں اگر چہ مطلقہ عورت کو اس کے سسر نے بلا حائل کے ہاتھ لگایا ہے اور ہاتھ لگانے سے انتشار بھی ہوا، لیکن اس کے بیان کے مطابق اگر واقعتاً اس وقت رغبتِ جماع (مجامعت کی خواہش) موجود نہیں تھی تو حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوئی۔ لہذا حرمت مصاہرت ثابت نہ ہونے کی وجہ سے اس عورت کے لیے اپنے شوہر سے دوبارہ نکاح کرنا جائز ہے۔
وجعلوا حدّ الشهوة أن يميل قلبه إليها ويشتهي جماعها.(المحيط البرهاني کتاب النکاح، الفصل الثالث عشر فى بيان آسباب تحريم، ج:3، ص:63)
قال عامة العلماء الشهوة أن يميل قلبه إليها ويشتهي أن يواقعها، كذا في قاضي خان.(درر الحكام شرح غرر الأحكام، كتاب النكاح، ج:1، ص:330)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں