بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

پکی ہوئی مچھلی کچی مچھلی سے وزن میں کم دینا


سوال

میں  مچھلی کا کاروبار کرتا ہوں، کچی مچھلی بھی بیچتا ہوں پکی ہوئی بھی ، کچی کا تول تو پورا ہوتا ہےلیکن پکی مچھلی کا معاملہ یہ ہے کہ  پہلے ہم کچی مچھلی تول کر پکاتے تھے اب چونکہ رش ہوتا ہے جس کی بناہ پر بار بار تولنا اور پکانا مشکل ہے اس لیے  ہم نے اندازہ لگایا ہے کہ کچی مچھلی تول کر جب اسے  پکایا جاتا ہے تو اسکا تقریبا 250  گرام یا اس کے لگ بھگ وزن گھٹ جاتا ہے چونکہ گاہک کو بھی جلدی ہوتی ہے تو وہ ایک کلو مچھلی مانگتا ہے ہم 720/760 گرام دے دیتے ہیں ۔کیا شریعت میں ایسے معاملے کی کوئی گنجائش ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ناپ تول  میں کمی کرنا حرام اور ناجائز ہے،  قرآن کریم اور احادیثِ مبارکہ میں اس سے منع کیا گیا ہے، اس لیے جو چیز  وزن کی شرط کے ساتھ بیچی  جائےوہ اس وزن سے کم دینا  یا اندازے سے دینا  بائع کے لیے حرام ہے۔

لہذا صورت مسئولہ  کے مطابق ایک کلو  کچی مچھلی کی بجائے750 /720 گرام  پکی مچھلی دینا جائز نہیں  ، اس کی جائز صورت یہ ہے کہ  کچی مچھلی کی الگ اور پکی مچھلی کی الگ قیمت طے کی جائے، پھر جو کچی مچھلی خریدنا چاہے اس کو کچی تول کر دی جائے اور جو پکی مچھلی خریدنے پر راضی ہو تو اس کو پکی تول کر فروخت کی جائے، یوں ناپ تول میں کمی کے گناہ سے بچا جا سکتا ہے۔

 

(ولا تنقصوا المكيال والميزان) کانوا إذا جاءهم البائع بالطعام أخذوا بكيل زائد، واستوفوا بغاية ما يقدرون  وظلموا، وإن جاءهم مشتر للطعام باعوه بكيل ناقص.( الجامع لأحكام القرآن للقرطبي، آیت:84، ج:9، ص:85)

قال القدوري: ما يتعين في العقد فهو مبيع. (الفتاوی الهندية، کتاب البیوع،  ج:3، ص:15)


فتویٰ نمبر : 4057/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں