بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
مستقبل میں طلا ق کی دھمکی
سوال
شادی کے بعد میں نے اپنی بیوی کو کچھ اوقات میں طلاق کی دھمکی دی تھی، تو کیا ان الفاظ کے کہنے سے نکاح پر کوئی اثر پڑتا ہے؟"خولہ بند کہ گنی طلاق درکومہ"۔(خاموش رہو ورنہ میں تمہیں طلاق دے دوں گا)؟"دروغ مہ وایہ بس پہ ارام کینہ خولہ بند کہ گنی طلاق درکوم"۔(جھوٹ مت بولو، بس سکون سے بیٹھو، خاموش رہو ورنہ میں طلاق دے دوں گا)؟"خولہ بندہ ساتہ گنی طلاق درکوم"۔(اپنا منہ بند رکھو ورنہ میں تمہیں طلاق دےدوں گا)؟میں نے یہ تینوں جملے مختلف اوقات میں کہے ہیں، تو کیااس کے ساتھ نکاح ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟پشتو لفظ "گنی" (یعنی ورنہ) کے بارے میں میں نے معلومات حاصل کی ہیں کہ یہ دھمکی اور ارادے کا لفظ ہے، اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی؟لیکن پھر بھی میں دل کے اطمینان کے لیے مزید معلومات حاصل کر رہا ہوں۔
جواب
واضح رہے کہ طلاق ماضی یاحال پردلالت کرنےوالےالفاظ کے ساتھ واقع ہوتی ہے۔جن الفاظ میں مستقبل میں طلاق دینے کی دھمکی ہویامستقبل میں طلاق دینے کےعزم کا اظہارہوان سےطلاق واقع نہیں ہوتی۔
صورت مسئولہ میں اگر شوہرنےبیوی کویہ الفاظ کہے ہوں: خولہ بند کہ گنی طلاق درکومہ( خاموش رہو ورنہ میں تمہیں طلاق دے دوں گا)۔دروغ مہ وایہ بس پہ ارام کینہ خولہ بند کہ گنی طلاق درکوم( جھوٹ مت بولو، بس سکون سےبیٹھو، خاموش رہوورنہ میں طلاق دےدوں گا)۔خولہ بندہ ساتہ گنی طلاق درکوم(اپنا منہ بند رکھو ورنہ میں تمہیں طلاق دے دوں گا)۔یہ الفاظ چونکہ مستقبل کے لیے استعمال ہوتے ہیں،حال کے لیےنہیں،اس لیے ان الفاظ سے صرف ارادہ طلاق کا اظہارہوتا ہے،ان سے طلاق واقع نہیں ہوتی اورنکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال.(تنقیح الحامدیۃ،کتاب الطلاق،ج:1،ص:37)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں