بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تسبیح (دانوں والی)کے ساتھ ذکر کرنا


سوال

آج کل ایک مسئلہ زیرِ بحث ہے کہ تسبیح (دانوں والی) کے ساتھ ذکر کرنا کیسا ہے؟ بعض حضرات اس کو ناجائز بلکہ ایک مولوی صاحب نے اسے کفر تک قرار دیا ہے۔ براہِ کرم وضاحت فرمائیں کہ: تسبیح کے ذریعے ذکر کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ کیا اس کا ثبوت قرآن و حدیث یا سلفِ صالحین سے ملتا ہے؟ کسی جائز عمل کو کفر کہنا شرعاً کیسا ہے؟

جواب

واضح رہےکہ تسبیح (دانوں والی) کا استعمال شرعاً جائز اور مباح ہے، اور اسے کفرقرار دینا درست نہیں۔ اس کی اصل زمانۂ نبوت سے ثابت ہے، جیسا کہ احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ کرامؓ کنکریوں یا گٹھلیوں کے ذریعے ذکر کی تعداد شمار کیا کرتے تھے، اور نبی کریم ﷺ نے اس پر سکوت فرمایا، بلکہ اس طرزِ عمل کی تائید بھی ثابت ہے۔چنانچہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی روایت میں ہے کہ انہوں نے ایک خاتون کو نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں کنکریوں کے ذریعے تسبیح کرتے دیکھا۔اسی طرح احادیثِ صحیحہ میں ذکر کی مخصوص تعداد مقرر فرمانا بھی ثابت ہے، جیسے حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ جو شخص صبح و شام سو مرتبہ"سبحان اللہ وبحمدہ" کہے، اس کے لیے عظیم اجر ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ تعداد کے ساتھ ذکر کرنا اور اسے شمار کرنےکے لیےکوئی ذریعہ اختیار کرنا شرعاً جائز ہے۔نیزکسی جائز عمل کوکفرکہناسخت گناہ ہےجس سے اجتنا ب لازم ہے۔

 

عن صفية قالت:دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم وبين يدي أربعة آلاف نواة أسبح بھا، فقال: لقد سبحت بھذا ألا أعلمك بأكثر مما سبحت به؟فقالت علمني فقال: قولي: سبحان الله عدد خلق.(رواه الترمذي) ……والحديثان الآخران يدلان على جواز عد التسبيح بالنوى والحصى وكذا بالسبحة لعدم الفارق لتقريره صلى الله عليه وسلم للمرأتين على ذلك. وعدم إنكاره والإرشاد إلى ما هو أفضل لا ينافي الجواز.(نيل الأوطار،باب جواز عقد التسبيح باليد وعده بالنوى ونحوه، ج:2، ص: 366)

(قوله لا بأس باتخاذ المسبحة) بكسر الميم: آلة التسبيح، والذي في البحر والحلية والخزائن بدون ميم. قال في المصباح: السبحة خرزات منظومة، وهو يقتضى كونھا عربية. وقال الأزهري: كلمة مولدة، وجمعھا مثل غرفة وغرف. اهـ. والمشھور شرعا إطلاق السبحة بالضم على النافلة. قال في المغرب: لأنه يسبح فيھا. ودليل الجواز ما رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن حبان والحاكم وقال صحيح الإسناد عن سعد بن أبي وقاص:أنه دخل مع رسول الله صلى الله عليه وسلم على امرأة وبين يديھا نوى أو حصى تسبح به فقال: أخبرك بما هو أيسر عليك من هذا أو أفضل؟ فقال: سبحان الله عدد ما خلق في السماء، وسبحان الله عدد ما خلق في الأرض، وسبحان الله عدد ما بين ذلك، وسبحان الله عدد ما هو خالق؛ والحمد لله مثل ذلك، والله أكبر مثل ذلك، ولا إله إلا الله مثل ذلك، ولا حول ولا قوة إلا بالله مثل ذلك : فلم ينھھا عن ذلك.وإنما أرشدها إلى ما هو أيسر وأفضل ولو كان مكروها لبين لھا ذلك، ولا يزيد السبحة على مضمون هذا الحديث إلا بضم النوى في خيط، ومثل ذلك لا يظھر تأثيره في المنع، فلا جرم أن نقل اتخاذها والعمل بھا عن جماعة من الصوفية الأخيار وغيرهم.(ردالمحتارعلی الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، ج:1، ص:421)


فتویٰ نمبر : 6648/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں