بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

بائنانس کےذریعے کہیں رقم ارسال کرنا


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے شرعیہ کے بارے میں کہ ہم فلسطین اورغزہ میں موجود ایک ساتھی کو پیسے بھیجتے ہیں ہم بینانس میں ڈالرخریدتے ہیں تقریبا پانچ لاکھ روپےکے، 285 روپے فی ڈالرہوکر، 1754 ڈالربن کربھیج ديتے ہیں اوروہاں پراس ڈالر سےسبزیاں یا کپڑے وغیرہ خرید کر لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں اب مسئلہ یہ ہے کہ ہم پہلے پاکستانی پانچ لاکھ روپے سے 1754 ڈالرخریدتے ہیں پھر وہاں بھیجتے ہیں اوروہاں اس ڈالر سے یاوہاں کی کرنسی شیکل سےاشیاء خریدتے ہیں توبینانس میں اس طرح ڈالرخریدنا کیسا ہے نیزاس مسئلے کی بھی وضاحت کریں کہ جو شخص ہم پر ڈالرفروخت کرتاہے چونکہ اس کے ساتھ ڈالر تیار ہوتے ہیں جو ہم سے ڈالر بھیجنے پرکچھ ٹیکس اورکچھ دو تین ڈالر کاٹتے ہیں یا ڈالر 285 کي بجائے 290 میں لگاتا ہے تو یہ ٹیکس کاٹنا کیسا ہےنيز یہ فلسطینی چندے سے کاٹا جائےگا یا ہم جیب سے الگ دیں گے؟

جواب

واضح رہے کہ بائنانس کرپٹو کرنسی ایکسچینج ہےجس کےذریعے صرف ڈیجیٹل کرنسیوں کی خرید و فروخت کی جاتی ہےاس لئے اس میں ڈالرخریدنا یا بھیجنا ممکن نہیں البتہ USDTکی خرید وفروخت اورترسیل ہوتی ہےجس کی ویلیوڈالرکےبرابرہوتی ہے تاہم USDT بذات خود بھی ایک کرپٹو کرنسی ہےاورکرپٹو کرنسی کی  حقیقت  ہماری معلومات کے مطابق ابھی تک پوری طرح واضح نہیں ہوئی اور فی الحال یہ ارتقائی مراحل سے گزررہی ہے جبکہ قانونی سطح پر بھی ابھی تک دنیا کے اکثر ممالک میں اسے قانونی کرنسی کی حیثیت حاصل نہیں ۔ لہذا جامعہ عثمانیہ کے دار الافتاء نے اس بارے میں غوروخوض کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ فی الحال اس کےبارے میں کوئی حتمی  رائے قائم نہیں ہوسکتی،البتہ مناسب یہ ہے کہ حقیقت واضح ہونے تک اس میں معاملات  کرنےسے احتراز کیا جائے کیونکہ مومنین کی یہ خوبی ہے کہ وہ شبہات سے بھی اپنے آپ کو بچاتے ہیں بالخصوص جب کہ اس چیز میں زندگی کی کوئی لازمی ضرورت بھی نہ ہو۔ لہٰذاصورت مسئولہ کے مطابق بائنانس کےذریعےرقوم کی ترسیل سےاحترازکامشورہ دیا جاتاہے۔ واللہ اعلم

 

 عن عامر قال: سمعت النعمان بن بشير يقول:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: (‌الحلال ‌بين، والحرام بين، وبينهما مشبهات لا يعلمها كثير من الناس، فمن اتقى المشبهات استبرأ لدينه وعرضه، ومن وقع في الشبهات: كراع يرعى حول الحمى يوشك أن يواقعه، ألا وإن لكل ملك حمى، ألا وإن حمى الله في أرضه محارمه،ألا وإن في الجسد مضغة: إذا صلحت صلح الجسد كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهي القلب).(صحيح البخاري ،باب فضل من استبرا لدينه،ج:1 ص:13)


فتویٰ نمبر : 4060/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں