بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مفتی سے مسئلہ پوچھنے یا فتویٰ لینے پر طلاق کو معلق کرنا


سوال

ایک شخص نے قسم کھائی کسی بات پر کہ اگر میں یہ مسئلہ مفتی سے پوچھوں یا فتویٰ لوں تو میری بیوی کو ایک طلاق ہو۔ اب اس نے امامِ مسجد سے، جو صرف عالم ہے، مسئلہ پوچھ لیا۔ تو کیا اب طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟

 

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی نے طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کیا تو شرط کے واقع ہوتے ہی طلاق واقع ہو جائے گی، البتہ شرط کی غیر موجودگی میں طلاق واقع نہیں ہوتی۔ نیز ہمارے عرف میں عالم وہ کہلاتا ہے جس نے درسِ نظامی مکمل پڑھا ہو، اور مفتی وہ کہلاتا ہے جس نے درسِ نظامی مکمل کرنے کے بعد کسی ماہر مفتی کی نگرانی میں فتویٰ لکھنے کی مشق و تمرین کر لی ہو۔ گویا ہر عالم مفتی نہیں کہلاتا، لیکن مفتی ہونے کے لیے عالم ہونا ضروری ہے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق جب کوئی آدمی یہ قسم کھائے کہ "اگر میں یہ مسئلہ مفتی سے پوچھوں یا فتویٰ لوں تو میری بیوی کو ایک طلاق ہو" اور پھر ایسے عالم سے وہ مسئلہ پوچھ لے جو صرف عالم ہو، مفتی نہ ہو، اور پوچھنے والا عالم اور مفتی کے درمیان فرق کو  جانتا ہو، اور مسئلہ پوچھنے کے وقت اس کے ذہن میں یہ بات ہو کہ امامِ مسجد جس سے مسئلہ پوچھ رہا ہوں صرف عالم ہے، مفتی نہیں، تو شرط نہ پائے جانے کی وجہ سے طلاق واقع نہ ہوگی۔ البتہ وہ شرط اپنی جگہ برقرار ہے۔ لہٰذا آئندہ جب کبھی مفتی سے وہ مسئلہ پوچھے گا یا فتویٰ لے گا تو ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔

 

(قوله الأيمان مبنية على الألفاظ إلخ) أي الألفاظ العرفية بقرينة ما قبله واحترز به عن القول ببنائها على عرف اللغة أو عرف القرآن ففي حلفه لا يركب دابة ولا يجلس على وتد، لا يحنث بركوبه إنسانا وجلوسه على جبل وإن كان الأول في عرف اللغة دابة، والثاني في القرآن وتدا كما سيأتي وقوله: ‌لا ‌على ‌الأغراض أي المقاصد والنيات، احترز به عن القول ببنائها على النية. فصار الحاصل أن المعتبر إنما هو اللفظ العرفي المسمى، وأما غرض الحالف فإن كان مدلول اللفظ المسمى اعتبر وإن كان زائدا على اللفظ فلا يعتبر."( ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الأيمان، ‌‌باب اليمين في الدخول والخروج والسكنى والإتيان والركوب وغير ذلك، ج:3، ص:743)

وإذا أضافه إلى شرط ‌وقع ‌عقيب ‌الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق۔ (الهداية، كتاب الطلاق، ج:1 ،ص:244)

والحاصل: أن الحلف بطلاق ونحوه تعتبر فيه نية الحالف ظالما أو مظلوما إذا لم ينو خلاف الظاهر. (ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الشركة، ج:3، ص:785)


فتویٰ نمبر : 7398/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں