بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مسلمان کو کافر کہنا


سوال

ایک شخص اپنے بیٹے کا پاخانہ صاف کر رہا تھا کہ اس کی  بیوی غصے میں بولی کہ  تم نے ہندو کاپاخانہ صاف کیا ہے؟تو کیا ان الفاظ کہنے سے اس کی بیوی پر تجدیدِ ایمان لازم ہوگا؟ جبکہ وہ اپنے بیٹے عبدالرحمن کو مسلمان ہی سمجھتی ہے۔

 

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی مسلمان  کو "کافر "کہے، تو اگر کہنے والےکا مطلب گالی دینا ہو اور حقیقت میں اس  کو کافر نہ سمجھتا ہو تو اس سے کہنے والا  گناہ گار ہوتا ہے، دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔

صورت مسئولہ کے مطابق مذکورہ عورت ان الفاظ کہنے کی وجہ سے گناہ گار ہے اس لیے اس کو توبہ و استعفار کرنا چاہیئے،لیکن  تجدیدِ ایمان کی ضرورت نہیں۔

 

إذا قال لغيره يا كافر أو للمرأة يا كافرة ولم يقل المخاطب شيئا...والمختار في مثل هذه المسائل: أنه إذا أراد الشتم ولا يعتقده كافرا لا يكفر، وإن اعتقده كافرا فخاطبه علی اعتقاده أنه كافر كفر، لأنه اعتقد المسلم كافرا فقد اعتقد دين الإسلام كفرا، ومن اعتقد دين الإسلام كفرا فهو كافر. (الفتاوی البزازیه،كتاب السير ، ج:3، ص:185)


فتویٰ نمبر : 6645/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں