بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/09/2026 |
دارالافتاء
خضر علیہ السلام کی حیات سے ختمِ نبوت پر اشکال
سوال
حضرت خضر کو کچھ کتب تفاسیر میں نبی کہا گیا ہے جن کو علم تکوینی دیا گیا تھا، لیکن کچھ صوفیاء میں کشف کی بنا پر جو مشہور ہے کہ حضرت خضر حیات ہیں تو کیا ان کی حیات کو ماننا ختم نبوت کے خلاف نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ حضرت خضر علیہ السلام کے نبی ہونےیا نہ ہونے میں علما کی آرا مختلف ہیں ،البتہ اکثر علما اور مفسرین کے نزدیک آ پ کا نبی ہونا راجح ہے اسی طرح اکثرحضرات کے نزدیک آپ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں ، لہذا بعض صوفیاء کرام کا کشف کی بنا پر آپ کی وفات کا انکار کرنے اور زندہ ماننے کی وجہ سے ختم نبوت پر کوئی اشکال وارد نہیں ہوتا ۔ اور اگر بالفرض صوفیاء کرام کا قول درست مان لیا جائے ، پھر بھی یہ اشکال وارد نہیں ہوتا، کیونکہ ختمِ نبوت کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بعد کسی کو نبوت سے نہیں نوازا جائے گا، جبکہ حضرت خضر علیہ السلام کو آپ ﷺ سے پہلے نبوت سے سرفراز فرمایا گیا ہے ، جیسے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے قربِ قیامت میں تشریف لانے سے اشکال وارد نہیں ہوسکتا ،کیونکہ آپ علیہ السلام کو نبی کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے نبوت دی گئی تھی ۔
الرابعة- ذهب الجمهور من الناس إلى أن الخضر مات صلى الله عليه وسلم. وقالت فرقة: إنه حي لأنه شرب من عين الحياة، وأنه باق في الأرض وأنه يحج البيت. (الجامع لأحكام القرآن للقرطبي، سورۃ الکہف، آیت: 82، ج:11، ص:44)
وقول تعالى:" وما فعلته عن أمري" يدل علي نبوته وأنه يوحى إليه بالتكليف والأحكام، كما أوحي للأنبياء عليهم الصلاة والسلام غير أنه ليس برسول... قال بعض العلماء: ولا يجوز أن يقال كان نبيا، لأن الآحاد، لا سيما وقد روي من طريق التواتر- من غير أن يحتمل تأويلا- بإجماع الأمة قوله عليه الصلاة والسلام: (لا نبي بعدي) وقال تعالى:" وخاتم النبيين والخضر و إلياس جميعا باقيان مع هذه الكرامة، فوجب أن يكونا غير نبيين، لأنهما لو كانا نبيين لوجب أن يكون بعد نبينا عليه الصلاة والسلام نبي، إلا ما قامت الدلالة في حديث عيسى أنه ينزل بعده.قلت: الجمهور أن الخضر كان نبيا- على ما تقدم- وليس بعد نبينا عليه الصلاة والسلام نبي، أي يدعي النبوة بعده ابتداء الله أعلم. (الجامع لأحكام القرآن للقرطبي، سورۃ الکہف، آیت:78، ج:11، ص:29)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں