بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

دکاندار کا وکیل یا تاجر ہوکر منافع لینا


سوال

ایک بندہ موبائل لیپ ٹاپ وغیرہ کا کاروبار کرتاہے۔ اب ایک گاہک اس کے پاس آتا ہےاور کہتا ہے کہ مجھے فلاں ماڈل کا موبائل چاہئے، جبکہ اس دکاندار کے پاس وہ موبائل موجود نہیں، اب دکاندار وہ موبائل کسی دوسرے بندے یا کمپنی سے اس گاہک کیلئے منگواتاہے۔ مثال کے طور پر  دکاندار نے وہ موبائل د س ہزار روپے میں خریدا اور اب اس گاہک کو بارہ ہزار میں بیچ رہاہے، یعنی دو ہزار منافع لے رہا ہے۔ اس طرح کوئی ایک بندہ اس کے پاس ایک موبائل لے کراتا ہے کہ میرا یہ موبائل دس ہزار میں بیچ دو۔ اب دکاندار اس موبائل کو بارہ ہزار میں فروخت کرتا ہے اور دو ہزارکا منافع اپنے لئے رکھتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ دکاندار وکیل بالشراء یا وکیل بالبیع کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں کیونکہ وکیل کے لئے تو پھر منافع لینا ازروئے شریعت صحیح نہیں جواب درکار ہے؟

جواب

وا ضح رہے کہ عام طور پر جب کوئی خریدار دکاندار سے کوئی چیز طلب کرتا ہے تو یہ خرید وفروخت  کا معاملہ ہوتا ہے اور جب کوئی دوسرے سے کہے کہ میرے لئے یہ چیز اتنی رقم میں کسی پر بیچ دو تو یہ وکالت کا معاملہ متصور ہوگا۔ نیز وکالت جس طرح اُجرت کے بدلے میں ہوسکتی ہے اسی طرح بطور تبرع واحسان بھی ہو سکتی ہے۔

لہذا پہلی صورت میں جب گاہک دکاندار سے  یہ کہتا ہے کہ مجھے فلاں ماڈل موبائل چاہیے اور اس کے پاس موجود نہ ہونے کی صورت میں وہ دکاندار خود  کسی اور سے خرید کر گاہک کو فروخت کر لیتا ہے تو یہ وکالت نہیں بلکہ بیع ہےایسی صورت میں اس کے لئے نفع لینا جائز ہے، دوسری صورت میں جب گاہک دکاندار سے کہے کہ میرے لیے یہ شے کسی اور پر بیچ دو تو یہ وکالت کا معاملہ ہے ایسی صورت میں دکاندار جس قیمت پر بیچ دے گاہک اس پوری رقم کا حق دار ہوگا۔ اور وکیل اجرت لینے کا مستحق تب ہوگا جب اس نے پہلے سے اجرت طے کی ہو یا وہ اجرت کے عوض لوگوں کی اشیاء بیچنے میں معروف و مشہور ہو، اور اگران میں کوئی بھی صورت نہ پائی جائے تو وکیل کے لئے اجرت لینے کا حق نہ ہوگا۔

 

(إذا شرطت الأجرة في الوكالة و أوفاها الوكيل استحق الأجرة، و إن لم تشترط و لم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعاً. فليس له أن يطالب بالأجرة) يستحق في الإجارة الصحيحة الأجرة المسمى. و في الفاسدة أجر المثل ... لكن إذا لم يشترط في الوكالة أجرة ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعًا، وليس له أن يطلب أجرة. أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة.(درر الحكام في شرح مجلة الاحكام، الکتاب الحادی عشر: الوکالة، الباب الثالث،الفصل االاول،المادة:1467،ج:3، ص:573 )


فتویٰ نمبر : 4046/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں