بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

خواجہ ختم، کی شرعی حیثیت


سوال

 ہمارے علاقے میں ایک مخصوص طریقے سے قرآنِ کریم کی سورتوں کا ختم کیا جاتا ہے جسے "خواجہ ختم" کہا جاتا ہے۔ اس کی تفصیل اور طریقہ کار درج ذیل ہے: ۱۔ ایک قاری یا مولوی صاحب مجمع میں بلند آواز سے سورہ یٰسین اور سورہ التغابن کی تلاوت کرتا ہے، جبکہ باقی تمام شرکاء خاموشی سے سنتے ہیں۔ ۲۔ اگر مجمع میں افراد کی تعداد 40 ہو، تو مولوی صاحب ان سورتوں کو ایک مرتبہ بلند آواز سے پڑھتے ہیں اور اگر افراد کی تعداد 40 سے کم ہو، تو مولوی صاحب ان سورتوں کو دو یا تین مرتبہ (یا حسبِ ضرورت) تکرار کے ساتھ بلند آواز سے پڑھتے ہیں تاکہ ایک مخصوص تعداد پوری ہو سکے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ: ۱۔ کیا قرآنِ کریم کی تلاوت کا یہ مخصوص طریقہ (جس میں ایک پڑھے، باقی سنیں اور مجمع کی کمی بیشی پر تلاوت کی تعداد کا مدار ہو) شرعی دلائلِ اربعہ (قرآن، سنت، اجماع اور قیاس) سے ثابت ہے؟ ۲۔ کیا اس طریقے سے ختم کرنا اور اسے باعثِ برکت سمجھ کر اس کا اہتمام کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں مفصل و مدلل جواب عنایت فرما کر مشکور فرمائیں۔

جواب

قرآنِ کریم کی تلاوت، مجالسِ ذکر اور ایصالِ ثواب شرعاً مستحب اور باعثِ برکت اعمال ہیں، قرآن و سنت میں اجتماعی طور پر قرآن پڑھنے کی بھی فضیلت موجود ہے۔  تاہم اگرافراد کی تعداد چالیس ہوتو ان سورتوں کو ایک مرتبہ پڑھنا، اور اگر افراد کی تعداد چالیس سے کم ہو تو ان سورتوں کو دو یا تین مرتبہ (یا حسبِ ضرورت) تکرار کے ساتھ بلند آواز سے پڑھنا تاکہ ایک مخصوص تعداد پوری ہو سکے، اور اس پورے طریقۂ کار کو ایک '' مخصوص ختم'' کا نام دے کر''خاص طریقے'' سے کرنا، قرآن، سنت، اور آثارِ صحابہ سے ثابت نہیں ہے۔ لہذا اس عمل کو محض مباح عمل کے درجے میں رکھ کر اس کی  پابندی لازم نہ سمجھی جائے تو جائز ہے، البتہ اسے دین کا ضروری حصہ، سنت، یا اس مخصوص طریقے کو لازم سمجھنا ناجائز اور بدعت ہے۔

 

عن الأغر أبي مسلم، أنه قال: أشهد على أبي هريرة، وأبي سعيد أنهما شهدا على النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: "لايقعد قوم يذكرون الله عز وجل إلا حفتهم الملائكة، وغشيتهم الرحمة، ونزلت عليهم السكينة، وذكرهم الله فيمن عنده."(صحيح مسلم، كتاب الذكر والدعاء والتوبة الإستغفار، باب فضل الإجتماع على تلاوة القرآن، رقم: 2700 ج:8، ص:72)

ولأن ذكر الله تعالى إذا قصد به التخصيص بوقت دون وقت أو بشيء دون شيء لم يكن مشروعا حيث لم يرد الشرع به؛ لأنه خلاف المشروع.( البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الصلوة، باب العيدين، ج:2، ص:172)

قَالَ الطِّيبِيُّ: وَفِيهِ أَنَّ مَنْ أَصَرَّ عَلَى أَمْرٍ مَنْدُوبٍ، وَجَعَلَهُ عَزْمًا، وَلَمْ يَعْمَلْ بِالرُّخْصَةِ فَقَدْ أَصَابَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْإِضْلَالِ فَكَيْفَ مَنْ أَصَرَّ عَلَى بِدْعَةٍ أَوْ مُنْكَرٍ.( مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب الصلوة، باب الدعاء في التشهد، ج:2، ص:755)

مِنْ جِهَةِ ضَرْبِ الْحُدُودِ، وَتَعْيِينِ الْكَيْفِيَّاتِ، وَالْتِزَامِ الْهَيْئَاتِ الْمُعَيَّنَةِ، أَوِ الْأَزْمِنَةِ الْمُعَيَّنَةِ مَعَ الدَّوَامِ، وَنَحْوِ ذَلِكَ، وَهَذَا هُوَ الِابْتِدَاعُ وَالْبِدْعَةُ، وَيُسَمَّى فَاعِلُهُ مُبْتَدِعًا.( الاعتصام للشاطبى،الباب الاول تعريف البدع وبيان معناها، ج:1، ص:50)                                          


فتویٰ نمبر : 6651/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں