بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بڑے گاؤں ميں نماز جمعہ پڑھنا


سوال

  گاؤں حیات خیل، جو گاؤں شہباز خیل سے تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر (1.5 کلومیٹر) کے فاصلے پر واقع ہے، اس میں درج ذیل سہولیات اور ضروریاتِ عامہ موجود ہیں: اس گاؤں کی آبادی تقریباً تین ہزار کے قریب ہے۔ یہاں پندرہ دکانیں، تین میڈیکل اسٹورز، ایک لیڈی ڈاکٹر کا ہسپتال، ایک زنانہ ڈینٹل کلینک اور ایک مرد ڈاکٹر موجود ہیں۔ پانی کے انتظام کے لیے آٹھ ٹیوب ویل، دو ٹینکیاں اور تقریباً دس پریشر پمپ ہیں، نیز تین آٹا چکیاں بھی موجود ہیں۔ تعلیمی اداروں میں دو مردانہ پرائمری سکولز، ایک مڈل سکول اور دو زنانہ سکولز قائم ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد ٹیوشن سینٹرز، ایک اسلامی مدرسہ اور خواتین کے لیے دینی درسگاہیں بھی قائم ہیں۔ مزید برآں گاؤں میں دس مساجد موجود ہیں۔ ایک درزی کی دکان ہے جبکہ درزی حضرات بھی کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ اسی طرح ایک ٹیلی نار ٹاور، ایک الخدمت کمیٹی، ایک موچی، تقریباً چار بڑھئی اور ایک لوہار بھی موجود ہیں۔ اسی طرح ڈیزل و پیٹرول کی ایک ایجنسی، ویٹرنری ادویات کی دکان، حجامہ سینٹر اور قصاب حضرات بھی گاؤں میں موجود ہیں۔ گاؤں میں پائلٹ حضرات بھی موجود ہیں۔ مزید یہ کہ تین مفتیانِ کرام، کثیر تعداد میں علمائے کرام، حفاظِ کرام اور طلباء کرام بھی یہاں مقیم ہیں۔ نجی طور پر عورتوں کے کپڑوں اور چپلوں کی دکانیں، موٹر سائیکل کی پنکچر اور مرمت کی دکان، جیولر (سنار)، کباڑی کی دکان، دو گائے فارم اور ایک بڑا قبرستان بھی موجود ہے۔ اسی طرح موبائل فون مرمت کرنے والے مستری، برقی اشیاء کی مرمت کرنے والے کاریگر اور بجلی کی مرمت کرنے والے افراد بھی موجود ہیں۔ مزید برآں ایک ساونڈ سسٹم کی دکان بھی قائم ہے۔ گاؤں میں کمپاؤنڈر حضرات (طبی معاونین) بھی ہر وقت لوگوں کے علاج و معالجے کے لیے دستیاب رہتے ہیں۔ لیڈی ڈاکٹر (زچہ و بچہ کے کیسز) کی وجہ سے اطراف کے دیہات کے لوگ بھی علاج کی غرض سے اسی گاؤں کا رخ کرتے ہیں۔ پانی کا باقاعدہ نظام بھی موجود ہے اور یہاں میٹھا پانی کافی مقدار میں دستیاب ہے، جس سے اطراف کے کئی گاؤں اپنی پانی کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ لہٰذا مذکورہ بالا صورتحال کی روشنی میں ازراہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائی جائے کہ: گاؤں حیات خیل میں نمازِ جمعہ اور عیدین کا کیا حکم ہے؟ کیا یہاں شرعاً جمعہ و عیدین قائم کرنا درست ہے یا نہیں؟  

 

جواب

واضح رہے کہ ائمہ کرام نے   نماز جمعہ کے جواز کے لئےجو شرائط بیان کی ہیں  ان میں سے   ایک شرط شہر یا فناء شہر کا ہونا ہے نیز بڑا گاؤں بھی شہر کے حکم میں داخل ہے ، لیکن گاؤں کی کوئی ایسی حد مقرر نہیں ،جس کو حتمی قرار دیا جائے ہر زمانے کے فقہا نے اپنے عرف کے مطابق اس کی تعریف کی ہے، آج کل جہاں مستقل آبادی تقریباً دو ہزار ہو اور ضروریات زندگی کا سامان بھی موجود ہو، اس کو بڑا گاؤں سمجھا جائے گا اور بڑاگاؤں چونکہ شہر کہ حکم میں ہوتا ہے لہذا اس میں نماز جمعہ پڑھنا جائز ہوگا۔

صورت مسئولہ میں مذکورہ  تفصیل  اگر درست ہو تو اس گاؤں کو بڑا گاؤں شمار کیا جائے گا لہذا  یہاں پر نماز جمعہ پڑھنا  درست ہے۔

 

 أما ‌المصر ‌الجامع ‌فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها۔(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، ج:2،  ص:188)

(ويشترط لصحتها) سبعة أشياء: الأول: (المصر)... (أو فناؤه) بكسر الفاء (وهو ما) حوله (اتصل به) أو لا كما حرره ابن الكمال وغيره (لأجل مصالحه) كدفن الموتى وركض الخيل والمختار للفتوى تقديره بفرسخ، ذكره الولوالجي. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار ص: 108)


فتویٰ نمبر : 10912/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں