بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

اجناس کی کثافت مختلف ہونے کے باوجودصاع کے وزن کو ساڑھے تین کلو مقرر کرنے پر اشکال


سوال

شریعت میں صدقۂ فطر کی مقدار گندم کے حساب سے نصف صاع جبکہ کھجور، کشمش اور جو کے حساب سے ایک صاع مقرر کی گئی ہے۔ میری سمجھ کے مطابق صاع اصل میں حجم (پیمائش) کا پیمانہ ہے، جبکہ ہمارے ہاں عام طور پر اسے وزن (کلو گرام) میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور ایک صاع کو تقریباً ساڑھے تین کلو کے برابر قرار دیا جاتا ہے۔ اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک صاع کھجور لیا جائے اور ایک صاع گندم یا جو لیا جائے تو حجم تو ایک صاع ہی ہوگا لیکن وزن مختلف ہو سکتا ہے، کیونکہ مختلف اجناس کی کثافت مختلف ہوتی ہے۔ لہٰذا اس بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ: 1. جب صاع دراصل حجم کا پیمانہ ہے تو اسے وزن (کلو گرام) میں کیسے تبدیل کیا گیا؟ 2. مختلف اجناس کے وزن میں فرق ہونے کے باوجود ایک صاع کو تقریباً ساڑھے تین کلو کے برابر قرار دینے کی شرعی یا فقہی بنیاد کیا ہے؟ براہِ کرم اس مسئلے کی وضاحت فرمادیں۔

جواب

نصوص میں صدقہ فطر کی مقدار صاع سے مقرر کی گئی ہے، لیکن موجودہ زمانے میں چونکہ کھجور، گندم اور جو کی خرید وفروخت صاع کے ذریعے  نہیں ہوتی ، بلکہ سیر اور کلو کے ذریعے ہوتی ہے، جو کہ وزن کے پیمانے ہیں اور رواج نہ ہونے کی وجہ سے عام طور پر صاع کا پیمانہ دستیاب بھی نہیں ہوتا،کہ اس کے ذریعے ناپ کیا جا سکے، اس لیے اہل علم نے لوگوں کی آسانی کے لیے رائج اوزان کے  حساب سے صاع کی مقدار کو متعین کیا ہے، جس کے مطابق ایک صاع  کی مقدار ساڑھے تین کلو  بتائی گئی ہے۔ یہ بات اگر چہ مسلم ہے کہ  مختلف اجناس کی کثافت مختلف ہوتی ہے اس لیےہر جنس  کا  وزن بھی  مختلف ہوتا ہے،   چنانچہ ایک صاع  میں کھجور، کشمش،گندم اور جو ہر ایک کا وزن مختلف ہوتا ہے، لیکن  ان چاروں میں سے جس کی کثافت نسبتا کم اور وزن بھاری ہو، یعنی گندم احتیاطاً سب کے لیے اسی کا وزن بتایا جاتا ہے،اہل فن علما نے تحقیق کرکے ایک صاع گندم کا وزن معلوم کیا، تو وہ  تقریبا ساڑھے تین کلو بنتا ہے، جب کہ کھجور،کشمش اور جو کا وزن ایک صاع میں  اس سے  کم ہوتا ہے، تاہم عبادات میں احتیاط کو مدِنظر رکھ کر  تینوں میں یہی وزن(یعنی ساڑھے تین کلو ) بتادیا جاتا ہے۔

 (وهو) أي الصاع المعتبر (ما يسع ألفا وأربعين درهما من ماش أو عدس) (قوله وهو أي الصاع إلخ) اعلم أن الصاع أربعة أمداد والمد رطلان والرطل نصف من والمن بالدراهم مائتان وستون درهما وبالإستار أربعون والإستار بكسر الهمزة بالدراهم ستة ونصف بالمثاقيل قيل أربعة ونصف ...( قوله: إنما قدر بهما) أي قدر الصاع بما يسع الوزن المذكور منهما أي من مجموعها: أي من أي نوع منهما؛ لأن كل واحد منهما يتساوى كيله ووزنه إذ لا تختلف أفراده ثقلا وكبرا فإذا ملأت إناء من ماش وزنه ألف وأربعون درهما ثم ملأته من ماش آخر يكون وزنه مثل وزن الأول لعدم التفاوت بين ماش وماش آخر وكذا لو فعلت بالعدس كذلك بخلاف غيرهما كالبر مثلا فإن بعض البر قد يكون أثقل من البعض فيختلف كيله ووزنه فلذا قدر الصاع بالماش أو العدس ...قال الطحاوي: الصاع ثمانية أرطال مما يستوي كيله ووزنه ومعناه أن العدس والماش يستوي كيله ووزنه، حتى لو وزن من ذلك ثمانية أرطال ووضع في الصاع لا يزيد ولا ينقص وما سوى ذلك تارة يكون الوزن أكثر من الكيل كالشعير وتارة بالعكس كالملح، فإذا كان المكيال يسع ثمانية أرطال من العدس والماش فهو الصاع الذي يكال به الشعير والتمر والحنطة  وذكر نحوه في الفتح ثم قال: وبهذا يرتفع الخلاف في تقدير الصاع كيلا أو وزنا ومراده بالخلاف ما ذكره قبله حيث قال: ثم يعتبر نصف صاع من بر من حيث الوزن عند أبي حنيفة؛ لأنهم لما اختلفوا في أن الصاع ثمانية أرطال أو خمسة وثلث كان إجماعا منهم أنه يعتبر بالوزن وروى ابن رستم عن محمد أنه إنما يعتبر بالكيل حتى لو دفع أربعة أرطال لا يجزيه لجواز كون الحنطة ثقيلة لا تبلغ نصف صاع. وفي ارتفاع الخلاف بما ذكر تأمل فإذا المتبادر من اعتبار نصف الصاع بالوزن عند أبي حنيفة اعتبار وزن البر ونحوه مما يريد إخراجه لاعتباره بالماش والعدس. (رد المحتار  علی الدرالمختار، کتاب الزکوۃ، ج:3، ص:320)

دوسرے سیدی و سندی حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانا اشرف علی  صاحب تھانوی قدس سرہ کے رسالہ الطرائف والظرائف حصہ دوم ص:12 میں ہے:" ایک مد حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب (نانوتوی، اول صدر مدرس دارالعلوم دیو بند ) کے پاس تھا، جس کی مسلسل سند حضرت زید بن ثابت کے مدتک ( جو انہوں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مد سے ناپ کر بنایا تھا) پہنچتی ہے، اس کو حضرت مولانا  تھانوی قدس سرہ نے دو مرتبہ بھر کر وزن کیا ، ( کیونکہ نصف صاع دو مد کا ہوتا ہے) تو ۸۸ تولہ کے سیر سے2/11سیر، 2/ 11 چھٹانک ہوا تھا۔“ (الطرائف ص: ۱۲)اس حساب سے پورے صاع کا وزن دو سواسی تولہ چھ ماشہ اور نصف صاع کا ایک سو چالیس تولہ تین ماشہ ہوتا  ہے۔ اور علامہ شامی نے بیان کیاہے  کے ایک  مد دو سو ساٹھ درہم کے برابر ہوتا ہے، اور دو سو ساٹھ درہم کا وزن تحقیق مذکور کے موافق آٹھ سو انیس ماشہ یعنی اڑسٹھ تولہ تین ماشہ ہوتا ہے، اور چونکہ پورا صاع چار مد کا ہوتا ہے، تو اس کو چار میں ضرب دینے سے پورے دوسو تہتر تولہ وزن صاع کا نکل آیا، اور نصف صاع ایک سو چھتیس تولہ چھ ماشہ کا ہوااور یہ بعینہ وہ حساب ہےجو اوپر بذریعہ درہم بیان کیا گیا ہے۔

ان میں سے جس حساب کو بھی اختیار کر لیا جاوے، صدقہ فطر ادا ہو جاو ےگا، لیکن آخری حساب میں چونکہ زیادتی ہے، اس لئے اس کے موافق ادا کرنے میں زیادہ احتیاط ہے، اور جب تو لہ ماشہ کے حساب سے صاع اور نصف صاع کا وزن معلوم ہو گیا ، تو اپنے اپنے شہروں کے سیر اور چھٹانک کا حساب لگا لینا سہل ہے، لیکن چونکہ عام طور پر انگریزی سیراسی  تولہ کا رائج ہو گیا ہے اور ہمارے بلاد میں عموماً صدقۃ الفطر گیہوں سے دیا جاتا ہے ، اس لئے اس کا حساب با تصریح لکھ دینا مناسب ہوا۔گندم سے صدقۃ الفطر کی مقدار واجب نصف صاع ہے، اور نصف صاع پہلے حساب سے اسی تولہ کے سیر سے ڈیڑھ سیر تین چھٹا تک کا ہوا، اور دوسرے حساب سے ڈیڑھ سیر تین چھٹانک ڈیڑھ تولہ اور تیسرے حساب سے پونے دو سیر تین ماشہ ہوا، جن میں زائد سے زائد سوا پانچ تولہ کی زیادتی ہے، اس لئے احتیاط اسی میں ہے، کہ اسی تولہ کے سیر سے پونے دو سیر گندم ایک صدقہ فطر میں نکالے جاویں۔(اوزانِ شرعیہ، از مفتی محمد شفیع صاحب ؒ، ص:26)


فتویٰ نمبر : 10994/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں