بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

وجوب زکوۃ کے لئے سال کی شرط


سوال

جنوری میں نصاب کے حساب سے سونا اور چاندی کی مالیت کے مطابق میرے پاس اتنی رقم موجود نہیں تھی کہ زکوٰۃ فرض ہوتی۔ لیکن فروری میں میری رقم نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو گئی۔ اس صورت میں کیا زکوٰۃ کا سال فروری سے شمار ہوگا اور کیا اگلے سال فروری میں زکوٰۃ ادا کرنا ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ زکوۃ ہر اس شخص پر واجب ہوتی ہے ، جو بقدر نصاب مال کا مالک ہو اوراس نصاب پرسال بھی گزر جائے ۔

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل جنوری میں صاحبِ نصاب نہ تھا، لیکن فروری میں صاحبِ نصاب بن گیا، تو اس دن کی قمری مہینوں کے اعتبار سے جو تاریخ بنتی ہے اس کو نوٹ کرلے ۔ اسی تاریخ سے اس کی زکوٰۃ کے سال کا آغاز  ہوگا، پھر آئندہ سال اسی قمری تاریخ کو اگراس کا مال نصاب کے برابریا اس سے زائد ہو، تو زکوٰۃ واجب ہوگی ورنہ نہیں ۔

 

(قوله: وشرطه الحولان) قال في القنية العبرة في الزكاة للحول القمري.(درر الحكام شرح غرر الأحكام، كتاب الزكاة، شروط وجوب الزكاة،  ج:1، ص:174)

 

 

 


فتویٰ نمبر : 10919/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں