بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

ناک سے جما ہوا خون نکالنا


سوال

اگر ناک سے جما ہوا خون انگلی کے ذریعے نکالا جائے اور وہ خون بہت کم ہو، پھر اس سے پانی لگ جائے اوروہ پانی چہرے اور ناک تک پہنچ جائے، تو کیا اس صورت میں چہرہ اور ناک ناپاک ہونگے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جسم سے نكلنے والے خون كی دو صورتیں ہے، پہلی صورت یہ ہے کہ اگر خون نکل کر بہہ گیا اور پھر خشک ہوا تو ایسا خون ناپاک شمار ہوگا اور اگر جما ہوا خون بدن کے کسی حصے پر لگ جائے تو وہ ناپاک نہیں ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر خون ناک کے اندر بہہ کر جم گیا ہو تو وہ نجس ہے اس لئے اس کے نکالنے کے بعد جب وہ پانی کے ساتھ مل جائے تو اس سے چہرہ اور ناک ناپاک ہو جائیں گے۔ اور اگر خون کا جما ہوا ٹکڑا ناک سے نکال دیا جائے تواس کے ساتھ پانی ملنے سے چہرہ اور ناک ناپاک نہیں ہونگے ۔

 

وفي المنية: انتثر فسقط من أنفه كتلة دم لم ينتقض اهـ : أي لما تقدم من أن العلق خرج عن كونه دما باحتراقه وانجماده۔ شرح.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الطهارة،ج:1،ص:268)


فتویٰ نمبر : 10932/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں