بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

سلاد کی خرید و فروخت میں مختلف شرائط لگانا


سوال

1۔اگر کوئی کمپنی کسی زمیندار کو مفت میں بغیر فیس کے ہدیہ کے طور پرسلاد کے بیج  دے اور مذکورہ شرائط کے ساتھ معاہدہ کرے، شرائط درج ذیل ہیں:. جوسلادمعاہدے کے تحت کمپنی کے لئے اگائی جائےگی خریدار وہ سلا دزمیندار سے اٹھائے گا ۔خریدار جو سلا دزمیندار سے خریدے گا وہ 50 روپے ریٹ پر فی کلو گرام طے ہے۔ 2۔زمیندار اس بات کا مکمل طور پر پابند ہوگا کہ جو سلا دخریدار کے لئے اگائے وہ صرف خریدار کو ہی دے سکتا ہے۔ کسی اور کو دینے کے صورت میں زمیندار 11 گنا زائد جرمانہ کمپنی کو دینے کا پابند ہوگا۔ اور باقی سابقہ حساب یعنی روپے نہیں دیئے جائیں گے۔ 3۔کمپنی  زمیندارسے  صاف ستھری وزن تقریبا400-500 گرام پتے اتار کراور بڑے سائز کی ہی سلاد خریدے گی۔ خریدار غیر معیاری سنڈی یا کیڑے والی اور خراب سلا داٹھانے کا پابند نہ ہوگا۔ اور بارش ، دھوپ گر مائش کی وجہ سے سلاد خراب اور گل جائیں تو خریدار اس کا ذمہ دارنہ ہوگا ۔ اور اٹھانے کاپابند بھی نہ ہوگا۔ 4۔خریدار کی گاڑی کوشش کرے گی کہ نزدیک ترین صاف روڈ تک جائے ، لیکن  اگر روڈ خراب ہو تو زمیندار اس بات کا پابندہوگا کہ وہ گاڑی تک سلا د اپنے خرچے پر پہنچائے گا اور لوڈ کروائے گا۔ خرید ارکسی بھی قدرتی آفت مثلا  ز لزلہ، لینڈ سلائیڈنگ ، طوفان ، روڈ بلاک اور کرفیو کی صورت میں جو تیار سلاد نہ اٹھا سکے اس کی پیمنٹ اور کسی بھی قسم کا ذمہ دار نہ ہوگا۔ 5۔خریدار جو سلا وزمیندار سے اٹھائے گااس کی ادائیگی بصورت چیک کی جائے گی جو کہ 80 دن کے بعد کیش ہوگا ،زمیندار اور خریدار او پر طے کی گئی شرائط کو درست مانتے ہوئے اس معاہدہ کوسن کر پڑھ کر اور بقائمی ہوش وحواس دستخط کر دیتے ہیں تا کہ سندر ہے اور بوقت ضرورت کام آسکے۔ تو یہ معاہدہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

استفتاء میں مذکور معاہدہ کی شقوں کا الگ الگ جواب درج ذیل ہے:

1۔ کسی کو ہدیہ دے کر شرط لگانا جائز نہیں، اور اگر شرط لگا کر کسی کو ہدیہ دیاتو ایسی صورت میں ہدیہ صحیح ہوگا اور شرط باطل ہوگی، نیز کسی کو مستقبل کی تاریخ  پر کوئی چیز بیچنا جائز نہیں، البتہ اگر بیچنے کا صرف وعدہ کیا جائے تو پھر جائز ہوگا۔اور بیع  سے پہلے ایک قیمت پر اتفاق کرنا  بھی بطور وعدہ ہو، توجائز ہوگا۔

2۔ جب زمیندار نے اپنی زمین میں بیج  بو دیا تو وہ اس  کے پیداوار کا مالک ہوگا،اب اس کو اختیا رہے کہ وہ  سلاد کمپنی پر بیچے یا کسی اور پر بیچے،تاہم اگر  کمپنی کو بیچنے کا وعدہ کیا ہو تو وعدہ خلافی جائز نہیں، لیکن اگر وعدہ خلافی کرے تو کمپنی کا اس پر جرمانہ عائد کرنا اور سابقہ حساب کے پیسے نہ دینا جائز نہ ہوگا۔

3۔ خریدار کا زمیندار سے صرف معیاری سلاد خریدنے کا معاہدہ جائز ہے، بشرط یہ کہ زمیندار اس پر راضی ہو، اور بقیہ سلاد کو کسی اورپر بیچے سے زمیندار کو منع نہ کرے، اسی طرح جب تک زمیندار نے خریدار کو سلاد فروخت نہ کیا  ہو اور اس سے پہلے وہ بارش وغیرہ کی وجہ سے خراب ہو جائے تو اس کی ذمہ داری خریدار پر نہ ہوگی۔تاہم کمپنی کا زمیندار کو دوسرے آدمی پر سلاد بیچنے سے منع کرنے، اور پھر خود اسے نہ اٹھانے میں چونکہ زمیندار کے حقوق کا استحصال ہے، اس لیے ایسامعاہدہ  درست نہیں جس میں کسی کے حقوق کا استحصال لازم آئے۔

4۔ زمیندار نے اگر اپنی مرضی سے اس کی گاڑی تک سلاد پہنچانے کا وعدہ کیا ہو، تو  یہ جائز ہے، اور جب کمپنی مندرجہ عوارض کی بنا پر تیار سلاد نہ اٹھائے،تو تاوان كی  ذمہ دار نہ ہوگی۔البتہ پھر  زمیندارسے  دوسرے پر نہ بیچنے کا وعدہ نہ لے، کیونکہ اس میں اس کے حقوق کا استحصال ہے ۔

5۔ خرید وفروخت جس طرح نقدرقم  کے ساتھ جائز ہے، اس طرح ادھار کے ساتھ بھی جائز ہے، بشرط یہ کہ مبیع کی  قیمت اور  ادائیگی کی مدت متعین ہو۔

 

عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان. (صحيح البخاري، رقم الحديث:33، ج:1، ص:16)

قوله إذا وعد أخلف أي فعل خلاف ما ذكر أنه يفعله. (فتح الباري، ج:1، ص:113)

 (وما) يصح و (لا يبطل بالشرط الفاسد) لعدم المعاوضة المالية سبعة وعشرون ما عده المصنف تبعا للعيني وزدت ثمانية (القرض والهبة والصدقة). (رد المحتار علی الدرالمختار، كتاب البيوع، ج:5، ص:249)

(وما تصح إضافته إلى) الزمان (المستقبل... فهي أربعة عشر... (وما لا تصح) إضافته (إلى المستقبل) عشرة (البيع، وإجازته، وفسخه، والقسمة والشركة والهبة والنكاح والرجعة والصلح عن مال والإبراء عن الدين) لأنها تمليكات للحال فلا تضاف للاستقبال كما لا تعلق بالشرط لما فيه من القمار. (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب البیوع، ج:7، ص:517)

(لا بأخذ مال في المذهب) بحر. (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان...والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال. )ردالمحتار علی الدرالمختار، كتاب الحدود، ج:6، ص:106)

قال لمن جاء بوقر بطيخ فيه الكبار والصغار بكم عشرة من هذه فقال بدرهم فعزل عشرة اختارها فذهب بها والبائع ينظر أو عزل البائع عشرة فقبلها المشتري تم البيع كذا في فتح القدير. (الفتاوى الهندية، كتاب البيوع، ج:3، ص:13)

 ولو اشترى حطبا في قرية وقال موصولا بالشراء احمله إلى منزلي لا يفسد وهو ليس بشرط كذا في الخلاصة إذا اشترى وقر حطب فعلى البائع أن يأتي به إلى منزل المشتري بحكم العرف. (الفتاوى الهندية، كتاب البيوع، ج:3، ص:30)

 (و) لا (بيع بشرط) (لا يقتضيه العقد ولا يلائمه وفيه نفع لأحدهما)...(ولم يجر العرف به و) (فيصح) البيع (بشرط يقتضيه العقد) (أو لا يقتضيه ولا نفع فيه لأحد) (أو لا يقتضيه لكن) يلائمه كشرط رهن معلوم وكفيل حاضر (جرى العرف به كبيع نعل).  (رد المحتار علی الدرالمختار، كتاب البيوع، ج:7، ص:281)


فتویٰ نمبر : 4116/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں