بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

حکومت سے معدنی ذخائر لیز پر لینا اور اس میں اپنے ساتھ دوسرے کو شریک کرنا


سوال

میں نے حکومت سے ایک معاہدے کے تحت ایک معدنی ذخیرہ لیا ہے، مثلاً حکومت مجھ سے فی ٹن 1000 روپے لیتی ہے، اور اس معدنیات کے نکالنے میں کافی اخراجات آتے ہیں۔ اب ایک اور شخص چاہتا ہے کہ وہ اس معدنی کام میں میرے ساتھ شریک ہو۔ اگر میں اخراجات کے لیے آدھی رقم اس سے رکھوں اور آدھی اپنی طرف سے رکھوں، اور پھر اس کے ساتھ منافع ایک مخصوص فیصد کے حساب سے تقسیم کروں، تو درج ذیل سوالات کا کیا حکم ہے؟

  1. اگر حکومت نے مجھے اس معاہدے کے تحت اس معدن (معدنی ذخیرے) کا مالک بنا دیا ہے، تو ظاہر ہے کہ یہ “اقطاعِ تملیک بالبدل” ہے۔
    تو کیا اس پر بیع (خرید و فروخت) کے احکام لاگو ہوں گے یا نہیں؟ اور کیا اس میں بیع کی تمام شرائط کا ہونا ضروری ہے یا نہیں؟
    اور اگر حکومت نے مجھے یہ معدن ایک مقررہ مدت کے لیے دیا ہے، تو بظاہر یہ “اقطاعِ ارفاق بالبدل” ہے، اور اس کی حقیقت ایسی چیز کی اجارہ (کرایہ) ہے جو استعمال سے ختم ہو جاتی ہے، حالانکہ حنفی فقہ میں ایسی اجارہ جائز نہیں، جیسے دودھ کے لیے بکری کرایہ پر دینا۔
  2.  تو کیا یہ اجارہ جائز ہے یا نہیں؟
  3. کیا مذکورہ طریقے سے اس دوسرے شخص کو اپنے ساتھ شریک کرنا جائز ہے یا نہیں؟
    اگر جائز ہے تو یہ کس قسم کی شرکت ہوگی؟
  4. اگر میں اپنے شریک سے سرمایہ نہ لوں، بلکہ وہ ایک انجینئر اور ماہر ہو اور اپنی مہارت کے ساتھ میرے ساتھ شریک ہو، یا اس کے پاس معدنیات نکالنے کے آلات اور وسائل ہوں اور وہ ان کے ذریعے میرے ساتھ شریک ہو، تو اس معاملے کا شرعی حکم کیا ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ معدنیات زمین کے اجزاء میں سے شمار ہوتے ہیں اس کی ملکیت میں فقہائے کرام کا اختلاف ہے چنانچہ احناف کے نزدیک جس جگہ سے یہ چیزیں نکالی جائیں اگر اس کا مالک معلوم و متعین ہو تو ان معدنیات کا مالک وہی سمجھا جائے گا۔ چاہے نکالنے والا وہ خود ہو یا کوئی اور شخص۔ چنانچہ شخصی جگہ سے نکلنے والے معدنیات کامالک وہ شخص ،قومی ملکیت سے نکلنے والے معدنیات کی مالک قوم اور حکومت کی ملکیت میں موجودزمینوں سے نکلنے والے معدنیات کامالک حکومت سمجھی جائے گی اور  اگر غیر مملوکہ زمین سےمعدنیات نکلیں تو نکالنے والااس کا مالک سمجھا جائے گا۔البتہ  موالک کے مشہورقول کے مطابق معدنیات جس حالت میں بھی ہوں ،غیرمملوک زمین میں ہوں ، یاسرکاری زمین میں یاکسی شخص یاقوم کی مملوکہ زمین میں ، اِن سب کامالک حکومت ہے۔ حکومت عارضی انتفاع کے لیے کسی کوبھی بطورِجاگیردے سکتی ہے البتہ کسی کواس کامستقل مالک نہیں بناسکتی۔

 چونکہ پاکستان میں  ملکی قانون یہ ہے کہ تمام کان اور معدنیات ہمیشہ حکومت کی ملکیت ہوگی اور یہ قانون فقہ مالکی کے ساتھ مطابقت رکھتا ہےکیونکہ اس میں تمام معدنیات کا مالک حکومت ہوتی ہے  اور فقہاء کرام کے  ہاں جب کسی مجتہد فیہ مسئلہ میں حاکم کا فیصلہ کسی ایک رائے پر ہو جائے تو فیصلہ کی وجہ سے وہ قوی اور واجب العمل ہو جاتا ہے اس وجہ سے شرعاً بھی معدنیات کی ملکیت حکومت کے پاس رہے گی ۔

اگر حکومت ایک معین مدت کے لئے  معدنیات کے پہاڑ لیز پر دیتی ہو تو یہ اجارہ الاعيان کی صورت ہے، جس میں استہلاک عین ہوتا ہے یعنی ایسی چیز کا اجارہ جو استعمال سے ختم ہوتی ہے۔اصولی طور پر احناف کے ہاں ایسی چیز کا اجارہ جائز نہیں جو استعمال سے ختم ہو جائے،لیکن معادن کے باب ميں عرف عام اور استحسان کی وجہ سے یہ معاملہ جائز ہے جیسا کہ  فقہائے کرام نے حمام کی اجرت اور مرضعہ کی اجرت کو استحسانا جائز قرار دیا ہے۔اس صورت میں یہ سمجھا جائے گا کہ حکومت کان کنی کے لئے جگہ اور راستہ وغیرہ دینے کے بدلے اجرت وصول کرتی ہے  جب کہ معدنیات کو  اس کے لئے مباح قرار دیا ہے کہ وہ اسے اپنے لئے فروخت کرے۔

جہاں تک دوسرے شخص کو اپنے ساتھ  شریک کرنے کا تعلق ہے،تو  حکومتی قوانین کی رو سے معدنیات چونکہ حکومت کی ملکیت ہوتی ہے اور حکومتی قانون کے مطابق لیز ہولڈر کو یہ اجازت نہیں کہ وہ اسے آگے کسی اور کو لیز پر دے اور حکومت کے وہ قوانین جو شریعت مطہرہ سے متصادم نہ ہوں اور مصلحت عامہ پر مبنی ہوں ان پر عملدرآمد ضروری ہے اس لیے حکومتی قوانین کی خلاف ورزی کرتےہوئے کسی اور شخص کو لیز پر دینایا اسے اپنے ساتھ لیز میں شامل کرنا  جیسے قانونا  جرم ً ہے ایسے ہی شرعاًبھی گناہ متصور ہوگا  اور اگر دوسرا شخص مالی سرمایہ نہیں دیتا بلکہ اپنی مہارت (مثلاً انجینئر ہونا) فراہم کرتا ہے، تو یہ معاملہ پھر اجرت کے زمرے میں آتا ہے۔ ایسی صورت میں  جس  مقدار پر اتفاق ہو جائے اس مقدار  کا  وہ بحیثیت اجیر مستحق ہوگااسی طرح  اگر کوئی شخص آلات فراہم کرتا ہے، اور ان کا کرایہ  طے کیا جاتا ہے تو یہ  بھی اجارہ ہو کر جائز ہوگا ،بشرطیکہ وہ  کرایہ معلوم اور متعین ہو۔چنانچہ معدنیات میں فیصد کو بطور کرایہ  طے کرنا جائز نہیں۔

 

أنّ المعدن من توابع الأرض؛ لأنه من أجزائها.(ردّالمحتار،كتاب الزّكاة،باب الرّكاز،ج:3،ص:259)

وحکمہ: للإمام ولو بأرض معین إلا مملوکۃ لمصالح فلہ من المدونۃ قال مالک : وللإمام إقطاع المعادن لمن رأی ویأخذ منها الزکاۃ  وکذلک ما ظهر من المعدن فی أرض العرب وأرض البربر فالإمام یلیها ویقطعها لمن رأی ویأخذ زکاتها  وکذلک ما ظهر منها بأرض العنوۃ فهو للإمام. وأما ما ظهر منها فی أرض الصلح فهو لأهل الصلح لهم أن یمنعوا الناس أن یعملوا فیها. ابن رشد : مذهب المدونۃ أن المعادن لیست تبعا للأرض التی هي فیها  مملوکۃ کانت أو غیر مملوکۃ  إلا أن تکون فی أرض قوم صالحوا علیها فإن أسلموا رجع أمرها إلی الإمام. ووجهہ أن المعادن التی فی جوف الأرض أقدم من ملک المالکین لها فلم یحصل ذلک ملکا لهم بملک الأرض فصار ما فیها بمنزلۃ ما لم یوجف علیہ بخیل ولا رکاب.(التاج والإكليل لمختصر خليل،محمد بن يوسف بن أبي القاسم بن يوسف العبدري الغرناطي، أبو عبد الله المواق المالكي،كتاب الزكاة، زكاة المعادن وخمس الركاز،دار الكتب العلمية،ج:3،ص:207)

"والمعتمد أنها للإمام لأن المعادن قد یجدها شرار الناس فلو لم یکن حکمہ للإمام لأدی إلی الفتن والهرج."(حاشية الدسوقي على الشرح الكبير،محمد بن أحمد بن عرفة الدسوقي المالكي ،كتاب الزكاة، زكاة المعدن،دار الفكر،ج:1 ص:487)

ولهذا إذا حکم الحاکم في فصل مجتهد فیہ ینفذ. ( تبیین الحقائق شرح كنز الدقائق،كتاب النكاح،ج:2،ص:116)

"التصرّف على الرعية منوط بالمصلحة"(شرح المجلة، سليم رستم باز، المقالة الثانية في القواعد الفقهية، مادة:58، ج:1، ص:42)       

‌فصار ‌كدخول ‌الحمام بأجر فإنه جاز استحسانا للتعامل، وإن أبى القياس جوازه لأن مقدار المكث وما يصب من الماء مجهول.(مجمع الأنهر في شرح ملتقی الأبحر،كتاب البيوع،باب السلم،ج:2،ص:106)

وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة.(رد المحتار على الدر المختار،کتاب الاجارۃ،شروط الاجارۃ، ج:6، ص:5)

 

49: ALL the mines and minerals shall and shall always be deemed to have been the property of government. (The land Revenue Act (West Pakistan Land Revenue Act (XVII of 1967) section 49)

Sub-Letting :(1) No License or Lessee shall sublet the mine for the purpose of extraction of the mineral to any third person. (MCR page:95) 


فتویٰ نمبر : 4053/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں