بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

صدقہ فطر میں نصف صاع گندم کی مقدار


سوال

 گندم کے حساب سے صدقہ فطر کی مقدار کے بارے میں اختلاف ہے پونے دو کلو،دو کلو  یا سوا دو کلو راجح قول ان  میں سے کون سا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ گندم کے حساب سے صدقہ فطر کی مقدار  نصف صاع واجب ہےالبتہ نصف  صاع کی مقدار میں علما کی اراء مختلف  ہیں: مفتی  رشيداحمد صاحبؒ نے  احسن الفتاوی میں سوا دو كلو كا قول فرمايا ہے، مولانا عبد الحئ لكهنویؒ نے ايك كلو 174 گرام کا قول فرمایا ہے اور مفتی محمد شفیع صاحبؒ  نے  اوزان شرعیہ میں 1کلو 592گرام کا قول کیا ہے اور یہی تیسرا  قول  راجح ہے ۔ تاہم فتاویٰ میں احتیاطاََ پونے دو کلو لکھا جاتاہے۔

 

‌‌فصل في مقدار الواجب ووقته: الفطرة ‌نصف ‌صاع ‌من ‌بر أو دقيق أو سويق أو زبيب أو صاع من تمر أو شعير۔ (الهداية في شرح بداية المبتدي، ج:1، ص:114)

 والصاع عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله ثمانية أرطال بالعراقي " وقال أبو يوسف رحمه الله خمسة أرطال وثلث رطل وهو قول الشافعي رحمه الله لقوله عليه الصلاة والسلام " صاعنا أصغر الصيعان " ولنا ما روي أنه عليه الصلاة والسلام كان يتوضأ بالمد رطلين ويغتسل بالصاع ثمانية أرطال وهكذا كان صاع عمر ضي الله عنه وهو أصغر من الهاشمي وكانوا يستعملون الهاشمي. (الهداية في شرح بداية المبتدي1/ 115)

أوزان شرعيه،  صاع كا وزن اور  صدقة الفطر كي مقدار صحيح: ص:  34

احسن الفتاوی، ج:4،  ص:394


فتویٰ نمبر : 10914/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں