بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

صرف اکٹھے سونے یا خلوت صحیحہ سے رجوع كا حكم


سوال

کیا طلاق رجعی کی عدت کے دوران زوجین کا ایک ہی پلنگ پر سونے سے یا پھر خلوت صحیحہ کرنے سے رجوع ثابت ہو جاتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ طلاق رجعی میں شوہر کو عدت کے اندر اندر رجوع کا حق حاصل ہوتا ہے۔ البتہ زوجین کے ایک ہی پلنگ پر سونے سے یا پھر خلوتِ صحیحہ کرنے سے رجوع ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہ شوہر کے کسی فعل سے رجوع اس وقت ثابت ہوتا ہے جب وہ حرمتِ مصاہرت کا سبب بنتا ہو اور محض خلوتِ صحیحہ یا ایک پالنگ پر سونے سے حرمت مصاہرت  ثابت نہیں ہوتی۔

 

(‌هي ‌استدامة ‌الملك ‌القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) أي عدة الدخول حقيقة، إذ لا رجعة في عدة الخلوة. ابن كمال. وفي البزازية ادعى الوطئ بعد الدخول وأنكرت فله الرجعة لا في عكسه. وتصح مع إكراه وهزل ولعب وخطأ (بنحو) متعلق باستدامة (راجعتك ورددتك ومسكتك) بلا نية لانه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس ولو منها اختلاسا أو نائما أو مكرها أو مجنونا أو معتوها إن صدقها هو أو ورثته بعد موته. جوهرة. ورجعة المجنون بالفعل. بزازية (و) تصح (بتزوجها في العدة) به يفتى.(الدر المختار،ص:228)


فتویٰ نمبر : 7388/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں