بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

غیر مسلم کی وفات پر تعزیت کے لیے ہاتھ اٹھانا


سوال

کفار کی وفات پر ان کی تعزیت کے لیے ہاتھ اٹھانے کی اجازت ہے یا نہیں اور ان کی تعزیت میں ہاتھ اٹھا کر ان کے لیے دعا کرسکتے ہے کہ نہیں اور اگر کسی شخص نے جان بوجھ کر کفار کی وفات پر ان کی تعزیت کےلئے ہاتھ اٹھائے یا دعا کی تو کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت میں ان لوگوں کے لیےمغفرت کی دعا کرنےسےمنع  کیا گیا ہے، جن کی وفات کفر کی حالت پرہوئی ہو،اس لیے کسی مسلمان کےلیے جائز نہیں کہ فوت شدہ غیرمسلموں کےلیے مغفرت کی دعا کرےورنہ گناہگار ہوگا۔البتہ کفارکی وفات پران کےاعزہ و اقارب کے ساتھ اس طرح تعزیت کی جا سکتی ہے کہ اس سے  مقصودان کے ساتھ ہمدردی کا اظہاراوران کےلیے صبراورخیر وبھلائی کی دعا کرنا ہو، اور تعزیت کرتے ہوئے اگر ہاتھ اٹھا کران کے لیے ہدایت یا صبرکی دعا کی جائے تو یہ بھی جائز ہے ۔البتہ کافر کے لیے دعائے مغفرت ہرگز نہ کی جائےکیونکہ اس سےصاف الفاظ میں منع کیا گیا ہے۔

 

 قال اللہ تعالی: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ ﴾۔ ]سورۃ التوبۃ:113 [

الحق حرمۃ الدعاء بالمغفرۃ للکافر۔(الدر المختار،کتاب الصلاۃ،ج:1،ص:523)

وفي النوادرجار يهودي أومجوسي مات ابن له أوقريب ينبغي أن يعزيه، ويقول أخلف الله عليك خيرا منه، وأصلحك وكان معناه أصلحك الله بالإسلام يعني رزقك الإسلام ورزقك ولدامسلما كفاية .(ردالمحتار،کتاب الحظروالاباحۃ،ج:6 ص:388 )


فتویٰ نمبر : 10905/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں