بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

غیر مملوکہ چیز کو فروخت کرنا


سوال

اگر زید کسی اور کی مثلا عمرکی گاڑی کسی کام سے لے جائے یا ویسے لے جائے۔وہاں خالد سے ملےاوراسے کہےکہ اس گاڑی کی کیا قیمت ہے۔اگر بالفرض آپ مجھ سے لینا چاہیں تو کتنے میں لے لیں گے۔خالد نے کہا 6 لاکھ میں خرید سکتا ہوں۔یا بولا یہ گاڑی6 لاکھ روپے کی ہے۔ زید گاڑی واپس عمر کے پاس لے آئے۔اور کہےکہ یہ گاڑی میرے اوپر بیچ دو۔ان کی بیع 5 لاکھ 70 ہزار میں ہوئی۔پھر زید جاکراس گاڑی کو خالد پر6لاکھ میں بیچ دیا۔یہ بیع درست ہے ؟

جواب

 واضح رہے کہ بیع  باہمی رضا مندی کے ساتھ مال کے تبادلے کا نام ہے۔لہذا بائع اور مشتری مبیع کی جس مقدار کے عوض جو قیمت طے کرنا چاہیں طےکرسکتے ہیں ۔

  صورت مسؤلہ میں اگر پہلےزید اور خالد کے مابین بیع کامستقل عقد نہ ہواہو بلکہ زید صرف خالد کے ذریعے گاڑی کی قیمت معلوم کرتا ہو،اور پھر زید اورعمر کے درمیان  رضا مندی سے عقدہواہو ،اور اس کے بعد زید  نے خالد کے ساتھ عقد کیا ہو تو پھر زید کا عمر سے 5لاکھ 70 ہزار پر گاڑی خرید کر آگے خالد پر 6لاکھ پر بیچنا جائز ہے۔لیکن اگر پہلے زید اور خالد کے درمیان بیع کاعقد ہوا ہوتو پھر یہ دوسرے کی ملکیت  کو بیچنےکی وجہ سے جائز نہ ہوگا۔

 

هومبادلة المال بالمال بالتراضي۔(البحر الرائق،کتاب البیع،ج:5،ص:277)

والثاني: أن يبيع منه متاعا لا يملكه ثم يشتريه من مالكه ويدفعه إليه وهذا باطل لأنه باع ما ليس في ملكه وقت البيع، وهذا معنى قوله: قال (لا تبع ما ليس عندك) أي شيئا ليس في ملكك حال العقد.(مرقاۃ المفاتیح،کتاب البیوع،باب المنھی عنھا من البیوع،ج:5،ص:1937 )


فتویٰ نمبر : 4048/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں