بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

منافع میں اللہ تعالی کو شریک بنانا


سوال

عموماً لوگ کاروبار میں اللہ تعالی کو شریک بناتے ہیں کہ کاروبار میں جو منافع ہوگا اس میں سے 10 فیصد اللہ تعالی کا حصہ ہوگا، اب سوال یہ ہے کہ اللہ کے لیے مخصوص کئے گئے حصے کو ہر جگہ خرچ کرسکتے ہیں جیسے مسجد بنوانا، مدرسہ تعمیر کروانا یامصارفِ زکاۃ کی طرح اس کے مصرف الگ ہیں؟ اور کیا اس کی صدقہ کی نوعیت نفلی ہوگی یا یہ منت کی ایک قسم ہے؟

جواب

زبان سے کسی ایسے جملہ کو ادا کرنا کہ اس سے کسی خاص چیز کا التزام سمجھ میں آئے نذر کہلاتا ہے، جیسے: میرے کاروبار کے منافع میں اللہ تعالی کا تیسرا حصہ ہے وغیرہ۔  تو ایسی رقم کا مصرف مصارفِ زکوۃ ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ الفاظ کی حیثیت نذر کی ہوگی اور اسے کسی غریب مستحق کو دینا ضروری ہے، اس رقم سے کسی مسجد یا مدرسہ کی تعمیر کروانا جائز نہیں۔

 

‌(‌قوله: ‌ومن ‌نذر نذرا مطلقا، أو معلقا بشرط ووجد وفى به) أي وفى بالمنذور لقوله عليه السلام: من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الأيمان، جلد:4، ص:300)


فتویٰ نمبر : 6630/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں