بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

یکطرفہ عدالتی تنسیخ نکاح ڈگری کی شرعی حیثیت


سوال

میں نے دوسری شادی کر لی جس کی وجہ سے پہلی بیوی میکے چلی گئی اور میرے خلاف عدالت میں کیس دائر کر دیا کہ میرا خاوند میرے ساتھ بدزبانی کرتا ہے اور نان و نفقہ بھی نہیں دیتا۔ پہلی تاریخ پر میں ملازمت کی وجہ سے نہ جا سکا، اپنی جگہ وکیل بھیجا اور دوسری تاریخ پر خود عدالت میں حاضر ہوا۔ جج کے سامنے میں نے تمام الزامات کی تردید کی اور صاف کہا کہ میں طلاق دینا نہیں چاہتا، بلکہ بیوی کے تمام حقوق کی ادائیگی کا پابند رہوں گا۔ اگلی تاریخ پر پھر میں حاضر نہ ہو سکا تو عدالت نے اسے خلع نامہ جاری کر دیا۔ کیا یکطرفہ خلع نامہ شرعاً معتبر ہے یا نہیں؟ اگر اب وہ دوبارہ میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے تو کیا دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر خاوند عورت کے حقوق کی ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی کا مرتکب نہ ہو تو عورت کی طرف سے تنسیخِ نکاح کا مطالبہ کرنا اور عدالت سے تنسیخ نکاح کا ڈگری لینا ناجائزہے اور ڈگری حاصل کرنے کی صورت میں عورت اگرچہ قانوناً آزاد ہوتی ہی، لیکن شرعی طور پر آزاد نہیں ہوتی، اس لیے کسی اور سے نکاح بھی نہیں کر سکتی۔ تاہم اگر شوہر متعنّت ہو یعنی نان و نفقہ اور دوسرے حقوق کی ادائیگی کی استطاعت کے باوجود ادا نہیں کرتا اور طلاق و خلع سے بھی انکار کرے، تو پھر ایک مسلمان قاضی عورت کے مطالبہ پر دونوں کے مابین تفریق لانے کا مجاز ہے، بشرطیکہ عدالت کی طرف سے تحقیق کے شرعی تقاضے پورے کیے گئے ہوں۔ ایسی صورت میں عورت پر طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی اور وہ عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔

صورت مسؤلہ میں صحیح صورتِ حال سے ہم ناواقف ہیں، اس لیے اس فیصلے کے بارے میں دو ٹوک قطعی رائے دینے سے قاصر ہیں۔ تاہم اگر عدالت نے واقعی سائل کی رضامندی کے بغیر یکطرفہ طور پر خلع کی ڈگری جاری کر دی ہو اور سائل نے خلع کا فیصلہ جاری ہونے کے بعد بھی اسے قبول نہ کیا ہو اور نہ ہی خلع نامہ پر دستخط کیے ہوں، تو شرعاً یہ علیحدگی معتبر نہ ہوگی؛ اس لیے دونوں کا نکاح قائم شمار ہوگا۔

 

قال أصحابنا : إنهما لايجوز خلعهما إلّا برضى الزوجين فقال أصحابنا: ليس للحكمين أن يفرقا إلّا برضى الزوجين، لأن الحاكم لايملك ذالك فكيف يملكه الحكمان؟. (أحكام القرآن للجصاص،ج:2،ص:239)

وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول. (بدائع الصنائع،كتاب الطلاق،ج:3،ص:145)


فتویٰ نمبر : 7387/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں