بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

صلوۃ تسبیح میں رکوع کے بعد ہاتھ باندھنا


سوال

 صلوٰۃ التسبیح کے قومہ (رکوع کے بعد کھڑے ہونے) میں ہاتھ باندھنے ہیں یا چھوڑنے ہیں؟ اس مسئلہ میں جواز، عدمِ جواز، افضلیت اور غیر افضلیت کو بھی واضح فرمائیں۔

جواب

ہاتھ باندھنا قیام کے سنتوں میں سے ہے قومہ میں ہاتھ باندھنا مسنون نہیں بلکہ ارسال مسنون ہے۔ لہذا صلوۃ تسبیح کے قومہ میں بھی ہاتھ نہیں باندھنا چاہیئے۔

 

والصحيح ما قاله شمس الأئمة الحلواني وهو الذي أشار إليه في الكتاب أن كل قيام فيه ذكر مسنون، فالسنة فيه الاعتماد كما في حالة الثناء والقنوت وصلاة الجنازة، وكل قيام ليس فيه ذكر مسنون فالسنة فيه الإرسال فيرسل في القومة عن الركوع وبين تكبيرات الأعياد، وبه كان يفتي شمس الأئمة السرخسي وبرهان الأئمة والصدر الشهيد. وذكر في فتاوى قاضي خان: وكلما فرغ من التكبير يضع ‌يده اليمنى على اليسرى تحت السرة، وكذا في تكبيرات العيد وتكبيرات الجنازة والقنوت ويرسل في القومة. (العناية شرح الهداية - 1/ 288)


فتویٰ نمبر : 10900/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں