بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

بروقت قرض ادانہ کرنےکی صورت میں اضافی چارجز وصول کرنا


سوال

ایک بندے کو میں نےپچاس ہزار روپے قرض دیاہے اوراس سے کہا ہے کہ یہ قرض آپ نےمجھےپندرہ دن بعد واپس دینا ہےاگرآپ نےمجھےمقررہ وقت پرنہ دیاتومیں آپ سے اس پر چارجزوصول کروں گا۔حالانکہ میری نیت اس سےاضافی چارجز لینے کی نہیں ہوتی بلکہ اس سےمحض اس کو ڈرانا مقصود ہوتاہے۔

جواب

واضح رہے کہ قرض میں اصل رقم پرکوئی بھی مشروط اضافہ رکھنا جائز نہیں۔ اگر کسی نےمعاہدے میں یہ شرط لگا دی کہ تاخیر پر اضافی رقم دینی ہوگی، تو یہ شرط ناجائزہے۔ یہ معاملہ ربا (سود) کے دائرے میں آتا ہے، کیونکہ قرض پر نفع کی شرط لگائی گئی ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق یہ شرط لگانا کہ اگر آپ نے مجھے مقررہ وقت پر قرض نہیں دیا تو میں آپ سے اس پر چارجز وصول کروں گا، اس طرح شرط لگانا ناجائز ہے، چاہے اضافہ وصول کرنے کا ارادہ ہو یا نہ ہو، بہرحال یہ شرط لگانے کا گناہ ہوگا، لہذا اس سے احتراز کیا جائے ۔

 

(‌وأما) ‌الذي ‌يرجع ‌إلى ‌نفس ‌القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه نھى عن قرض جر نفعا؛ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا لأنھا فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبھة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض .(بدائع الصنائع، كتاب القرض،ج:10، ص697)

(القرض لا يتعلق بالجائز من الشروط فالفاسد منھا لا يبطله ولكنه يلغو شرط رد شئ آخر، فلو استقرض الدراهم المكسورة على أن يؤدي صحيحا كان باطلا)...(وكان عليه مثل ما قبض)...وفي الخلاصة: القرض بالشرط حرام، والشرط لغو... وفي الأشباه: كل قرض جر نفعا حرام.(الدرالمختار، كتاب البيوع،فصل فی القرض،ص:429)


فتویٰ نمبر : 4044/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں