بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

پیشا ب سے بچنے والی حدیث کی وضاحت


سوال

حدیثِ مبارکہ میں ارشاد ہے: 'اِسْتَنْزِهُوا مِنَ الْبَوْلِ فَإِنَّ عَامَّةَ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنْهُ' (ترجمہ: پیشاب سے بچو، کیونکہ قبر کا اکثر عذاب اسی کی وجہ سے ہوتا ہے)۔ میرا سوال یہ ہے کہ اس حدیث کا اصل مفہوم کیا ہے؟ عام حالات میں بدن اور کپڑوں کو پیشاب سے بچانا تو واضح ہے، لیکن کیا اس مخصوص صورت میں بھی وعید لاگو ہوگی کہ اگر کوئی شخص رات کو اپنی اہلیہ کے پاس جاتے وقت نائٹ ڈریس پہن لے اور اس دوران مَذی یا پیشاب کے چند قطرے بدن یا لباس پر لگ جائیں، مگر وہ فجر کے وقت اٹھ کر اچھی طرح استنجا کر لے،بدن دھو لے اور کپڑے بھی تبدیل کر لے؟ کیا ایسا شخص اس وعید سے بچ جائے گا؟

جواب

واضح رہے کہ سوال میں ذکر کردہ حدیثِ مبارک کی تشریح میں محدثین کرام نے جو تفصیل بیان فرمائی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں مذکور وعید اس شخص کے متعلق ہے جو پیشاب کے قطروں سے پاکی حاصل کرنے میں کوتاہی اور لاپرواہی برتتا ہے، اور لباس پر نجاست لگنے کے باوجود اسے صاف نہیں کرتا۔ اگر کسی شخص کو وقتی طور پر نجاست لگ جائے جسے وہ  دھو لے اور طہارت حاصل کر لے، تو ایسا شخص مذکورہ حدیث کی وعید کے زمرے میں داخل نہیں ہوگا۔

لہٰذا، صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص رات کو سوتے وقت لباس تبدیل کر کے نائٹ ڈریس پہن لیتا ہے اور اپنی اہلیہ کے ساتھ لیٹتا ہے، تو اس دوران اگر مَذی یا پیشاب کے چند قطرے بدن یا کپڑوں پر لگ جائیں، مگر وہ فجر کے وقت بیدار ہو کر استنجا کر لے اور بدن و لباس پاک کر لے، تو وہ اس حدیثِ مبارک کی وعید کا مصداق نہیں بنے گا۔

 

عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «استنزهوا من البول فإن عامة عذاب القبر منه.( سنن الدارقطني، كتاب الطهارة، باب نجاسة البول والأمر بالتنزه منه والحكم في بول ما يؤكل لحمه، ج:1،ح:464)

كان لا يستتر من بوله يعنى أنه كان لا يستر جسده ولا ثيابه من مماسة البول، فلما عُذب على استخفافه لغسله والتحرز منه،دل أنه من ترك البول فى مخرجه، ولم يغسله أنه حقيق بالعذاب.(شرح صحيح البخاري لابن بطال، باب ما جاء فى غسل البول، ج:1، ص:325)


فتویٰ نمبر : 10927/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں