بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مخلوط اموال سے زکوٰۃ کی ادائیگی


سوال

اگر کسی کے پاس سونا نصابِ سونا (ساڑھے سات تولہ) سے کم ہو، لیکن اس کے ساتھ نقدی (کیش)، چاندی یا مالِ تجارت بھی موجود ہو، یا سونا ،نقدی  اور مالِ تجارت باہم مخلوط ہوں، تو ایسی صورت میں زکوٰۃ کے وجوب کا معیار صرف چاندی کے نصاب کو بنایا جائے گا، اور سونے کے نصاب کو اس موقع پر اعتبار میں نہیں لایا جائے گا۔ اس بارے میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ: اس اصول کی اصل اور بنیاد کیا ہے کہ مخلوط اموال (سونا، نقدی، چاندی، مالِ تجارت) کی صورت میں چاندی کے نصاب کو معیار بنایا جاتا ہے؟ کیا یہ حکم کسی صریح حدیثِ نبوی ﷺ سے ثابت ہے؟ یا یہ فقہائے امت کے اجتہادی اصول اور قواعدِ فقہ کی بنیاد پر طے کیا گیا ہے؟ کیا یہ اصول خاص فقہِ حنفی کا ہے، یا دیگر فقہی مذاہب (شافعی، مالکی، حنبلی) میں بھی اسی طرح مخلوط اموال کی صورت میں چاندی کے نصاب کو معیار بنایا جاتا ہے؟ نیز یہ بھی بتا دیں کہ آج بھی اگر کوئی مخلوط اموال میں صرف سونے کے نصاب اعتبار زکوۃ ادا کرتا ہے تو زکوٰۃ ادا ہوگی یا گناہ گار ہوگا ؟  

جواب

 واضح رہے کہ زکوۃ تین قسم کے اموال پر فرض ہوتی ہے سونا، چاندی اور سوائم (سال کے اکثر حصہ میں  چرنے والے جانوروں)، ان میں سے ہر ایک کے لئے نصاب مقرر ہےاور نقدی اور سامان تجارت میں اصل یہ ہے کہ جب یہ سونے یا چاندی کے نصاب میں سے کسی ایک  تک پہنچ جائے تو نصاب مکمل شمار ہوگا، کیونکہ اس میں فقراء کا  نفع ہے اور اسی میں احتیاط بھی ہےنیز اگر کسی  کی ملکیت میں مختلف اموال جمع ہو جائیں اور کوئی ایک بھی نصاب تک نہ پہنچتا ہو تو ان کو باہم ملا کر دیکھا جائے گا کہ   نصاب مکمل ہوتا ہے یا نہیں۔ پھر باہم ملانے کے بارے میں  امام ابو حنیفہ ضم بالقیمۃ  (قیمتوں کو ملانے) اور صاحبین ضم بالاجزا (اجزا کے ملانے)   کا حکم کرتے ہیں اور دیگر ائمہ کرام میں سے امام مالک  اور امام احمد بن حنبل  بھی  ضم بالاجزاء کا حکم کرتے ہیں البتہ امام شافعی   سونا اور چاندی  کے ضم کے قائل نہیں ۔ اور یہ ان حضرات  کا اجتہادی مسلک ہے، کسی صریح نص سے ثابت نہیں۔ عام لوگوں کے لئے  فقہائے کرام کے اجتہاد سے ہٹ کر خود آسانی کے راستے ڈھونڈنا شرعاً جائز نہیں ۔

 

اعلم أن مال الزكاة نوعان السوائم ومال التجارة لأن من شرط وجوب الزكاة أن يكون المال ناميا والسماء من حيث العين يكون بالاسامة ومن حيث المعنى بالتجارة ثم مال التجارة نوعان الأثمان المطلقة وهي الذهب والفضة۔ ( تحفة الفقهاء، 1/ 263)

 قال: وتضم قيمة العروض إلى الذهب والفضة حتى يتم النصاب لأن الوجوب في الكل باعتبار التجارة وإن افترقت جهة الإعداد  ويضم الذهب إلى الفضة  للمجانسة من حيث الثمنية ومن هذا الوجه صار سببا ثم يضم بالقيمة عند أبي حنيفة رحمه الله وعندهما بالأجزاء وهو رواية عنه حتى إن من كان له مائة درهم وخمسة مثاقيل ذهب تبلغ قيمتها مائة درهم فعليه الزكاة .( الهداية في شرح بداية المبتدي، ج: 1، ص: 103)

‌ولو ‌ضم ‌أحد ‌النصابين إلى الأخرى حتى يؤدي كله من الذهب أو من الفضة لا بأس به لكن يجب أن يكون التقويم بما هو أنفع للفقراء قدرا ورواجا، وإلا فيؤدي من كل واحد ربع عشره كذا في محيط السرخسي. (الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية 1/ 179)

والاعتبار في ذلك يقام المثقال بعشرة دراهم. خلافاً لأبي حنيفة في قوله: إن الاعتبار بالقيمة۔ (الإشراف على نكت مسائل الخلاف، 1/ 399)  

 أن الفضة جنس وإن تنوعت، فلذلك ضم بعضها إلى بعض، وليس الذهب من جنسها فلم يجز أن يضم إليها والله أعلم. ( الحاوي الكبير، ج:4، ص:272)  

 فإذا قلنا بالضم، فإن أحدهما يضم إلى الآخر بالأجزاء، يعني أن كل واحد منهما يحتسب من نصابه، فإذا كملت أجزاؤهما نصابا، وجبت الزكاة، مثل أن يكون عنده نصف نصاب من أحدهما، ونصف نصاب أو أكثر من الآخر، أو ثلث من أحدهما، وثلثان أو أكثر من الآخر. فلو ملك مائة درهم وعشرة دنانير، أو مائة وخمسين درهما وخمسة دنانير، أو مائة وعشرين درهما وثمانية دنانير، وجبت الزكاة فيهما. وإن نقصت أجزاؤهما عن نصاب فلا زكاة فيهما. سئل أحمد، عن رجل عنده ثمانية دنانير ومائة درهم؟ فقال: إنما قال من قال فيها الزكاة، إذا كان عنده عشرة دنانير ومائة درهم. وهذا قول مالك، وأبي يوسف، ومحمد، والأوزاعي؛ لأن كل واحد منهما لا تعتبر قيمته في وجوب الزكاة إذا كان منفردا، فلا تعتبر إذا كان عنده عشرة دنانير مضمونة كالحبوب والثمار وأنواع الأجناس كلها. (المغني  لابن قدامة، ج:2، ص:598)  


فتویٰ نمبر : 10945/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں