بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نکاح خواں کےتلقین کردہ الفاظ کے جواب میں "جی" کہنا


سوال

اگر نکاح خواں نے لڑکی کو کہا کہ فلاں بنت فلاں آپ نے اپنے آپ کو اتنے مہر کے عوض فلاں بن فلاں کو دیا ہے اور لڑکی نے پہلی دفعہ جواب میں کہا "قبول ہے" دیا ہے "نہیں کہا اور دوسری دفعہ جواب میں کہا"جی" اور تیسری دفعہ جواب میں بھی کہا"جی" لڑکے نے تینوں دفعہ جواب میں کہا :"جی میں نے قبول کیا، تو کیا یہ نکاح ہو ا ہے یا  نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ عقدِنکاح ایجاب و قبول کے ساتھ منعقد ہوتا ہے ، اورمتعاقدین میں سے پہلے کے قول کو ایجاب اور دوسرے کے قول کو قبول کہتے ہیں ، نیز یہ کہ ایجاب و  قبول ان تمام الفاظ سے درست ہے جو اس پر دلالت کرتے ہوں ۔

صورتِ مسئولہ میں جب لڑکی نے نکاح خواں کو جواب میں پہلی دفعہ"قبول ہے"اور دو مرتبہ "جی" کہا  تو یہ اس کی طرف سے ایجاب ہوگیا، لہذا اس کے بعد لڑکے کے  قبول کرنے سے نکاح منعقد ہو گیا ہے ۔

 

(وإنما يصح بلفظ تزويج ونكاح) لأنهما صريح (وما) عداهما كناية هو كل لفظ (وضع لتمليك عين) كاملة. (رد المحتار علی الدرالمختار،کتاب النکاح، ج:4، ص:16)

قيل لامرأة: (خويشتن را بفلان بزني دادي) فقالت: (داد) وقيل للزوج:(پذيرفتي) فقال:(پذيرفت) ينعقد النكاح. (الفتاوی الهندية،کتاب النکاح، ج:1، ص:336)


فتویٰ نمبر : 7377/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں