بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

گاؤں میں جمعہ کی نماز


سوال

ایک گاؤں ہے اسمیں گورنمنٹ پرائمری سکول ہے اور ڈسپینسری ہے جو کہ گورنمنٹ کی غفلت کی وجہ سے بند ہے لیکن اس گاؤں میں پرائیویٹ ڈاکٹرز آتے ہیں بیٹھتے ہیں علاج کرتے ہیں، دکانیں ہیں، اور اس گاؤں میں 250 گھر ہیں، اور آبادی تقریباً ہزار افراد سے زیادہ ہے، تین مساجد ہیں، اور جہاں جمعہ کی نماز پڑھائی جاتی ہے وہ چار کلومیٹر دور ہے وہاں ضعفاء کو جانے میں تکلیف ہوتی ہےتو کیا اس گاؤں کی مرکزی مسجد میں جمعہ پڑھایا جاسکتا ہے؟

جواب

فقہ حنفی کی رو سے جمعہ کا انعقاد صرف شہر، قصبہ یا کسی بڑے گاؤں میں کیا جاسکتا ہے۔ بڑے گاؤں (قریہ  کبیرہ) کی علامات مختلف زمانوں میں فقہائے کرام نے اپنے عرف کے مطابق بیان کی ہیں۔ موجودہ دور میں دو، ڈھائی ہزارافراد کی آبادی پر مشتمل گاؤں جس میں ضروریات زندگی میسر ہوں اس کو بڑے گاؤں کی حیثیت حاصل ہے۔

صورت مسؤلہ میں مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق اس گاؤں کو بڑا گاؤں نہیں کہا جاسکتا، لہذا اس گاؤں میں جمعہ کا انعقاد جائز نہ ہوگا۔

 

لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر ولاتجوز في القرى. (الهداية، كتاب الصلوة، باب الجمعة، جلد:1، ص:1/82)


فتویٰ نمبر : 10884/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں