بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

زکوۃ کے مستحق ہونے میں زمین کی قیمت کا اعتبار


سوال

ہمیں گاؤں میں وراثت کے طور پر زمین ملی، جو دو قسم کی ہے۔ ایک زرعی زمین ہے، جس سے کچھ اناج حاصل ہوتا ہے، مگر اس کی آمدنی اتنی کم ہے کہ سال بھر کے اخراجات پورے نہیں ہوتے۔ اسی وجہ سے ہم نے وہ زمین مفت ایک شخص کو دے رکھی ہے تاکہ وہ اس کی دیکھ بھال کرتا رہے۔ دوسری قسم زمین کو  صوبائی زمین کہتے  ہے، اس پر درخت موجود ہیں۔ ان درختوں کو ہم باقاعدگی سے نہیں بیچتے بلکہ صرف ضرورت کے وقت کبھی کبھار کاٹ کر فروخت کرتے ہیں، اس لیے اس سے بھی مستقل آمدنی نہیں ہوتی۔البتہ ان درختوں کی قیمت نصاب زکوۃ سے زیادہ بنتی ہے۔

واضح رہے کہ ان زمینوں کی تقسیم ہو چکی ہے اور ہر ایک وارث  کی زمین کی قیمت  بھی نصاب سے زائد ہے، لیکن ہمارے پاس نہ تو نقد رقم ہے، نہ سونا چاندی، اور نہ ہی کوئی ایسا مال جو زکوٰۃ کے قابل ہو۔ اس کے علاوہ ہم پر کچھ قرض بھی ہے۔ انہی حالات میں ہم نے زکوٰۃ حاصل کی، کیا ہمارے لیے یہ زکوٰۃ لینا جائزہے ؟

جواب

واضح رہے کہ جس مسلمان کی ملکیت میں اس کی بنیادی ضرورت و استعمال سے زائد ایسا مال ،سامان یا زمین موجود ہو جس کی مالیت نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، توایسے شخص کے لئے زکوۃ لینا جائز نہیں ۔

صورت مسئولہ میں سائل کو جو زمین وراثت میں ملی ہے وہ چونکہ سائل کے آمدن کا ذریعہ نہیں، اس لئے یہ اس کی بنیادی ضروریات سے زائد شمار ہوگی، چنانچہ سائل اس زمین کی موجودہ قیمت کا اندازہ لگائے اور واجب الاداء قرض اس سے منھا  کرے، اگر باقی مالیت نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، تو سائل کے لئے زکوۃ لینا جائز نہ ہوگا ۔

 

والحاصل أن مايكون مشغولاً بحاجته الحالية نحو الخادم والمسكن، وثيابه التي يلبسها في الحال، لايعتبر في تحريم الصدقة بالإجماع، ومايكون فاضلاً عن حاجته الحالية يعتبر في تحريم الصدقة.(المحيط البرهانى، كتاب الزكاة، الفصل الثامن من توضع فيه الزكاة، ج:3، ص:217)


فتویٰ نمبر : 10893/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں