بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

رُخصتی سے پہلے طلاق دینے سے مہر کا حکم


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ منکہ محمد شعیب پراچہ کی بیٹی کا نکاح با قاعدہ ایجاب وقبول اور تقرری حق مہرکے ہوا، میری طرف سے خوشی میں احباب، رشتہ داروں اور دوستوں کو بلایاگیا تھا، لڑکی چونکہ پاکستان میں ہے اورلڑکا کنیڈا میں رہتا ہے۔ لڑکے کے والدین اور لڑکا کنیڈا سے آکر محفل میں شریک تھے یوں اس خوشی کی ابتدا دھوم دھام سے ہوئی ، لڑکے نے باقاعدہ سفری ضروریات مکمل کرکے شادی کی تاریخ مقرر کی۔ اور لڑکی کا ویزا بھیج کر پاسپورٹ پر لگوایا گیا، گویا سفری سہولیات یقینی ہونے پر ابھی کسی کو یقین نہیں تھا کہ اس جوڑے کو نظر بد لگے گی اور فیصلے تبدیل ہوں گے، لیکن لڑکے کی والدہ اور خود لڑکے سے اس دوران کچھ ایسی باتیں کی گئیں جن سے اعتماد کی فضا متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی، لڑکے اور اس کی والدہ کی باتوں کے نا مناسب ہونے پر لڑکے کا والد اور دوسرے رشتہ دار سب متفق ہیں، کہ ایسی باتیں نہیں ہونی چاہئے تھیں، لیکن لڑکی اور لڑکی کے والدین کا اطمینان اب مشکل ہے بلکہ اس کی طرف سے سب خاندان اس خوف کے شکار ہیں کہ ایسی باتوں کے بعد لڑکی کے لیے دیارِ غیر میں اطمینان کی زندگی گزارنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ نا ممکن  ہے۔ غرض ایسی صورت میں اگرلڑکے کے نا مناسب رویہ اورغیر ذمہ دارانہ باتوں کی وجہ سے یہ معاملہ طلاق پرمنتج ہو تو شریعت کی روشنی میں اس کا کیا حکم ہے۔ کیا لڑکی کے لئے حقِ مہرکا استحقاق ہوگا  یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ نکاح  کو ختم کرنا ازدواجی تعلقات میں درپیش ناچاقی کا ابتدائی حل نہیں  بلکہ اصلاح ِحال سے مایوسی کے بعدآخری مرحلہ ہے لہذا چاہیےکہ  باہمی مفاہمت سے ازدواجی تعلق کو  برقرار رکھنے کی  بارآورکوشش کی جائے ۔تاہم کشیدگی کی وجہ سے اگر نکاح  برقرار رکھنا  مشکل ہو تو شریعت ِمطہرہ خاوند کو یہ اجازت دیتی ہے کہ وہ اپنی بیوی کو سنت طریقے کے مطابق طلاق دے کر نکاح ختم کرے ۔ اِس صورت میں اگر مہر مقرر ہوچکاہو لیکن رُخصتی نہ ہوئی ہو تو عورت آدھے مہر کاحقدار ہوگی۔

 صورت ِمسؤلہ میں اگر باہمی مفاہمت کے بعدبھی رشتہ ازدواجی قائم رکھنا مشکل ہو، اور نکاح کے بعد رخصتی اور خلوت ِصحیحہ نہ ہوئی ہوتو اگر اس لڑکے کی طرف سے اپنی منکوحہ کو طلاق ملے تو جتنا مہر مقرر ہو چکا ہے اس کا آدھا حصہ اس لڑکی  کا حق بنے گا، ہاں اگر لڑکے والے اپنی رضامندی سے لڑکی کو پورا مہر دے دیں یا لڑکی اور اُس کے خاندان والے اپنا آدھا مہر بھی معاف کردیں تو یہ طرفین کی طرف سے ایک مستحسن فیصلہ شمار ہوگا جس کی شریعت حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

 

قال اللہ تعالی : وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا (النساء:35)

وقال تعالی : وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّا أَنْ يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ ۔(البقرۃ:237)

أما تفسيره شرعا فهو رفع قيد النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص۔۔۔ فالأحسن أن يطلق امرأته واحدة۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الباب الأول، ج:1،ص:415)

یجب(نصفہ بطلاق قبل وطئ،أو خلوة)۔ (الدر المختار، كتاب النكاح، باب المهر، ج:4،ص:235)


فتویٰ نمبر : 7372/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں