بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

اپنی منکوحہ کوفون پر تین طلاقیں دینے کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص  اپنی منکوحہ (جس کی  رُخصتی نہ ہوئی ہو) کےبارے میں فون پریہ الفاظ  کہ " وہ  مجھ پر تین شرطوں کے ساتھ طلاق  ہے "  تین دفعہ کہے،  تو اس سے طلاقیں واقع ہوتی ہیں یا نہیں؟ یاد رہے کہ ہمارے کوہستان کے عرف میں "تین شرطوں کے ساتھ طلاق دینا" طلاقِ مغلظ  ہی شمار ہوتی ہے۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ کسی شوہر کا تین طلاقیں دینے کے بعد یہ دعوی کرنا کہ  وہ عورت میری بیوی ہے یااُس لڑکے کے باپ   کا یہ کہنا کہ وہ عورت  میری بہو ہے، جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں  تو ایسے  دعوی کرنے والوں کے لیے شریعت کیا سزا تجویز کرتی ہے؟

جواب

واضح رہے اگر کوئی شخص اپنی غیر مدخولہ  بہا عورت ( یعنی وہ منکوحہ جس سے رخصتی یا تنہائی نہیں ہوئی) کو ایک ہی جملے میں کہے کہ: "میں نے تجھے تین طلاقیں دیں"، تو اس پر تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔ اور اگر طلاق  کے الفاظ کو الگ الگ کر کے کہے، مثلاً: "تجھے طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے"، تو اس صورت میں صرف پہلی طلاق واقع ہوگی اور دوسری و تیسری واقع نہیں ہوگی۔             

صورتِ مسؤلہ  کے مطابق  اگر واقعی اس شخص نے اپنی  منکوحہ کے بارے میں فون پر یہ الفاظ  کہ " وہ مجھ پر تین شرطوں کے ساتھ طلاق ہے "،  تین دفعہ کہے ہوں، اور  وہاں کے عرف میں  "تین شرطوں کے ساتھ طلاق دینا" طلاقِ مغلظ ہی شمار ہوتی  ہو تو ایسی صورت میں یہ لڑکی اس سے تین طلاقوں کے ساتھ جدا ہوئی ہے،  بعد میں اس کے لیے  اُس کے بیوی ہونے  کا دعوی کرنا   جائز نہیں،  اور نہ ہی اُس کے باپ کے لیے یہ جائز ہے کہ  اُس کو اپنی بہو سمجھے۔

 البتہ شریعت میں اس عمل کے لیے کوئی مخصوص "حد" (جیسے چوری یا زنا کی سزا) مقرر نہیں ہے، لیکن یہ تعزیر کے زمرے میں آتا ہے۔ تعزیر کا مطلب: وہ سزا جو قانون کی روشنی میں حاکمِ وقت یا قاضی (جج) جرم کی نوعیت دیکھ کر طے کرتا ہے۔ گویا ایسے دعوی کرنے والوں کی سرزنش کرنا قاضی کی صوابدید پر موقوف ہے۔

 

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: "‌إِذَا ‌طَلَّقَ ‌الْبِكْرَ ‌وَاحِدَةً ‌فَقَدْ ‌بَتَّهَا، وَإِذَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ."(مصنف ابن أبي شیبة کتاب الطلاق، في الرجل یتزوج المرأة ثم یطلقها،ج:4 ص:18)

إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها؛لأن الوقاع مصدر محذوف لأن معناه طلاقا بائنا على ما بيناه فلم يكن قوله أنت طالق إيقاعا على حدة فيقعن جملة " فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة." (الهدایة،کتاب الطلاق،فصل فی الطلاق قبل الدخول،ج:3،ص:167)

والتعزير ليس فيه تقدير بل هو مفوض إلى رأي القاضي وعليه مشايخنا زيلعي لأن المقصود منه الزجر، وأحوال الناس فيه مختلفة. (الدرالمختارعلی صدر رد المحتار، کتاب الحدود، باب التعزیر، 6/ 106)


فتویٰ نمبر : 7371/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں