بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
مطلق جماعت واجب ہے یامسجد کی جماعت
سوال
آپ کی خدمت میں باجماعت نماز کے متعلق تین مسالک اور ان کے دلائل پیش کی جارہی ہے۔پہلا مسلک یہ ہے کہ شریعت میں باجماعت نماز کے بارے میں جو تاکید وارد ہوئی ہے، اس کا اصل محمل اور حقیقی مصداق مسجد کی جماعت ہے؛ لہٰذا اگر کوئی شخص مسجد کی جماعت کو ترک کر کے یا تو تنہا نماز ادا کرے یا کہیں اور جماعت کے ساتھ پڑھے، دونوں صورتوں میں تارک جماعت ہے۔ البتہ اسے ترکِ جماعتِ مسجد کے گناہ کے ساتھ ساتھ نفسِ جماعت کی ستائیس گنا فضیلت بھی حاصل ہو جائے گی۔ فقیہ النفس ابو حنیفۂ ثانی حضرت اقدس مولانا رشید احمد گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب ”القطوف الدانیة فی تحقیق الجماعة الثانیة“ میں رقم طراز ہیں: اور یہ جو وجوبِ جماعت کا حکم ہے، وہ جماعتِ اُولیٰ کے ساتھ مخصوص ہے، جو ایک دوسری قسم ہے، نہ کہ صرف مطلق جماعت کے لیے۔(القطوف الدانیة فی تحقیق الجماعة الثانیة)مترجم: مفتی اعظم محمد شفیع عثمانی، جواہر الفقه ٢/٥٧-٥٨) فقیہ النفس حضرت اقدس مولانا رشید احمد گنگوہی کے معتمد، مفتی اعظم ہند شیخ عزیز الرحمن عثمانی رحمتہ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں ارقام فرماتے ہیں: ” ترکِ جماعتِ مسجد دائمی طور پر معصیت ہے، اور اس پر اصرار فسق ہے۔“ (فتاوی دارالعلوم دیوبند جدید ٣/٦٥، مرتب: حضرت مفتی محمد امین صاحب پالن پوری) فقیہ العصر حضرت مولانا رشید احمد صاحب لدھیانوی رحمتہ اللہ علیہ رقم طراز ہیں: روایاتِ بالا سے معلوم ہوا کہ غیر معذور کے لیے جماعتِ مسجد میں حاضری ضروری ہے۔ محلے میں مسجد ہوتے ہوئے بلا عذر گھر میں جماعت کرنے سے جماعت کا ثواب نہیں ملے گا، بلکہ یہ فعل بدعت اور مکروہِ تحریمی ہے، بالخصوص اس کی عادت بنا لینے میں کراہتِ شدیدہ ہے۔ (احسن الفتاوی: ٣/٢٧٢-٢٧٤، ط: زکریا) ان کی عبارات سے معلوم ہوتاہے کہ احادیثِ نبویہ میں ترکِ جماعت پر جو وعیدیں وارد ہوئی ہیں، ان کا تعلق صرف اور صرف مسجد کی جماعت سے ہے، نفسِ جماعت سے نہیں۔
دوسرا مسلک یہ ہے کہ مسجد کی جماعت محض افضل ہے لہذا اگر کوئی شخص بلا عذر مسجد کی جماعت ترک کرتا ہے اور اپنی جماعت قائم کرتا ہے تو یہ جائز ہے۔ اس پر تارک جماعت کے احکام لاگو نہیں ہوں گے فتاوی خانیہ میں ہے: وإن صلّى بجماعة في البيت اختلف فيه المشايخ والصحيح أن للجماعة في البيت فضيلة وللجماعة في المسجد فضيلة أخرى، فإذا صلّى في البيت بجماعة فقد حاز فضيلة أدائها بالجماعة وترك الفضيلة الأخرى هكذا قاله القاضي الإمام أبو علي النسفي رحمه الله تعالى، والصحيح أن أدائها بالجماعة في المسجد أفضل؛ لأن فيه تكثيرًا للجماعة، وكذلك في المكتوبات. (فتاوی قاضی خان: ١/٢٠٥، ط: دارالکتب العلمیة) فتاوی بزازیہ میں ہے :الثالث في التراويح: وإن صلاها بجماعة في بيته فالصحيح أنه نال إحدى الفضيلتين فإن الأداء بجماعة في المسجد له فضيلة ليس للأداء في البيت ذلك، وكذا الحكم في المكتوبة. (الفتاوى البزازية: ١/٢٩ كتاب الصلاة، الثالث في التراويح، ط: دار الكتب العلمية) الدر المختار: (وأقلها اثنان) واحد مع الإمام ولو مميزا أو ملكا أو جنيا في مسجد أو غيره. (الدر المختار مع رد المحتار ط: حلبي ١/٥٥٤) مراقي الفلاح میں ہے : «والصلاة بالجماعة سنة...... ويحصل فضل الجماعة بواحد ولو صبيا يعقل أو امرأة ولو في البيت مع الإمام وأما الجمعة فيشترط ثلاثة أو اثنان كما سنذكره. (مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح: ١/١٠٩، ط: المكتبة العصرية)
تیسرا مسلک یہ ہے کہ مسجد کی جماعت مستقل واجب ہے اور نفس جماعت مستقل واجب ہے۔ اعلاء السنن میں ہے’’فثبت أن إتیان المسجد أیضاً واجب کوجوب الجماعة، فمن صلاها بجماعة في بیته أتی بواجب وترك واجباً آخر‘‘.
جواب
نفسِ جماعت کے واجب ہونےیا مسجد میں جماعت کےواجب ہونےکےبارے میں وضاحت یہ ہے کہ نفس جماعت کےساتھ نمازپڑھنا توواجب ہےالبتہ مسجد میں جماعت اداکرناسنت علی الکفایہ ہے یعنی اگراہل مسجد میں سےکچھ افراد بھی مسجد میں جماعت کےساتھ نمازادا کردیں توسارےاہل مسجد کاذمہ فارغ ہوجاتاہے،ورنہ عدم ادائیگی کی صورت میں سارےاہل مسجد ترک سنت کی وجہ سے گناہ گارہوں گے۔ چنانچہ جولوگ مسجد کی جماعت میں شریک ہوتے ہوں لیکن کبھی کبھارعذرکی بنا پریا بغیرعذرگھر میں یا کسی دوسری جگہ جماعت سےنماز پڑھ لیتے ہوں ان پر گناہ نہ ہوگالیکن یہ ضروری ہے کہ محلہ کی مسجد غیر آباد نہ ہوجائےاوربلاعذردائمی طورپرمسجد کی جماعت ترک نہ کی جائے۔ نیزیہ بھی واضح رہے کہ مسجد کی جماعت کی فضیلت مسجد سے باہرکی جماعت سےزیادہ ہے۔
منها أن الجماعة واجبة وقد سماها بعض أصحابنا سنة مؤكدة وكلاهما واحد،وأصله ما روي عن النبي عليه السلام أنه واظب عليها وكذلك الأمة من لدن رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى يومنا هذا مع النكير على تاركها وهذا حد الواجب دون السنة.(تحفة الفقهاء، ج:1، ص: 227)
دل فعل هؤلاء أن الجماعة في المسجد سنة على سبيل الكفاية.(مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، ص:157)
الراجح عند أهل المذهب وجوب الجماعة وأنه يأثم بتفويتها اتفاقا.(ردالمحتار مع الدر المختار، ج:1، ص:396)
(قوله: من سمع الأذان) يفهم منه أنه لو لم يسمع لصمم أو لبعد أنه لا يجيب، وهو ظاهر الحديث الآتي إذا سمعتم الأذان حيث علق على السماع، وقد صرح بعض الشافعية بأنه الظاهر، وبأنه يجيب في جميعه إذا لم يسمع إلا بعضه.(ردالمحتار مع الدر المختار،ج:1، ص:396)
يجب السعي بالقدم لا لأجل الأداء في أول الوقت أو في المسجد، بل لأجل إقامة الجماعة.(ردالمحتار مع الدر المختار،ج:1، ص:396)
أنه لو جمع بأهله لا يكره وينال فضيلة الجماعة لكن جماعة المسجد أفضل. (ردالمحتار مع الدر المختار،ج:1، ص:396)
(ويجيب) وجوبا، وقال الحلواني ندبا، والواجب الإجابة بالقدم. (ردالمحتار مع الدر المختار،ج:1، ص:396)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں