بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عدالت کے ذریعے تنسیخ نکاح


سوال

محمد خالد کی بیٹی کا سمیع اللہ نامی لڑکے سے نوسال پہلے نکاح ہوا  تھا رخصتی کے تقریبا ایک سال بعد شوہر کے مار پیٹ اور علاج نہ کروانے کی وجہ سے لڑکی میکے چلی گئی اور چند مہینوں کے بعد باپ کے گھر میں اس کا بیٹا پیدا ہوا اس کے اخرجات بھی  بیوی کے والدین نے برداشت کی ،اس دورن عدالت میں کیس چلا گیااور عدالت نے سب کچھ گواہ اور ثبوت اکھٹے کیے ،اب جب عدالت میں کیس 90 فیصد تک پہنچ گیا تو سمیع اللہ نے عدالت چھوڑ دیا اور عدالت نے 2023 میں لڑکی کو یک طرفہ تنسیخ نکاح کی ڈگری جاری کردی،اب پوچھنا یہ ہے کہ محمد خالد اپنی بیٹی کا نکاح کسی اور جگہ کراسکتا ہے یہ نہیں ؟اور عدالت کی دی ہوئی تنسیخ نکاح کی ڈگری نافذ ہوگی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر میاں بیوی  کے درمیان ناچاقی کی صورت ہویا شوہر بیوی پر ظلم کرتا ہو جس کی وجہ سے  وقت گزارنا مشکل ہو تو ایسی صورت میں بیوی اپنے شوہر سے خلع لے سکتی ہے ،لیکن خلع دینے کا حق  شوہر کو حاصل ہے ،کوئی آدمی یا کوئی ادارہ اور تنظیم  کسی کی بیوی کو خلع نہیں دے سکتی ،تاہم اگر شوہر متعنت ہو یعنی حقوق ادا نہ کرتا ہو ،  نان نفقہ نہ دیتا ہو اور اس پر ظلم کرتا ہو تو اس صورت میں عورت  عدالت  جا سکتی ہے ۔عدالت اگر پوری تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ شوہر واقعتا متعنت ہے یعنی بیوی کو نہ حقوق دیتا ہے اور نہ آزاد کرتا ہے تو ایسی صورت میں عدالت  تنسیخِ نکاح کی ڈگری جاری کرسکتی ہے اور اس سے بیوی مطلقہ ہوجائے گی اور عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ شادی کرسکےگی  ۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر شوہر واقعی حقوق کی ادائیگی سے منکر ہو ،نان نفقہ نہ دیتا ہو اورظلم کا مرتکب ہو تو عدالت کی جاری کردہ تنسیخ ِنکاح کی ڈگری نافذ ہوگی اوراس کی بیوی  مطلقہ شمار ہوگی ،لہذا عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔

 

وأما المتعنت الممتنع عن الإنفاق، ففي مجموع الأمير مانصه إن منعها نفقة الحال، فلها القيام فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق وإلا طلق عليه. قوله:وإلا طلق عليه: أي طلق عليه الحاكم من غير تلوم. (الحيلة الناجزه للحليلة العاجزة، ص:132،73)


فتویٰ نمبر : 7369/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں