بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

"میں مسلمان نہیں "یا "اسلام سے میرا کوئی تعلق نہیں"کے الفاظ کہنا


سوال

اگر کوئی مسلمان شخص یہ کہے کہ میں مسلمان نہیں یا اسلام سے میرا کوئی تعلق نہیں،تو کیا اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟

جواب

واضح رہےکہ اگرکوئی شخص جان بوجھ کرکوئی ایساکلمہ زبان سےکہہ دےجس کےاعتقادسےکفرلازم آتاہواوراس کویقینی طورپرمعلوم بھی ہوکہ یہ کلمہ کفرہے تواس سےوه دائره اسلام سےخارج ہوجائےگااورنکاح بھی ٹوٹ جائےگااس لیےاس پرایمان اورنکاح کی تجدیدلازم ہوگی۔البتہ اگرکوئی شخص غلطی یالاعلمی سے کفریہ کلمہ زبان سےادا کرےاوراسےیہ علم نہ ہوکہ ایسےکلمات سےانسان کافرہوجاتاہے،تواس کاحکم الگ ہوگا۔

صورتِ مسئولہ کےمطابق اگراس شخص نےجان بوجھ کریاہنسی مذاق میں یہ بات کہی ہوکہ" میں مسلمان نہیں" یا" اسلام سےمیراکوئی تعلق نہیں" تواس صورت میں اس پرتجدیدایمان اورنکاح کی تجدیدلازم ہوگی۔البتہ اگراس پرزبردستی کی گئی ہویاغلطی سے یہ الفاظ زبان سےنکلےہوں توپھرتجدید ایمان ونکاح لازم نہیں۔

 

قال فی البحروالحاصل: أن من تكلم بكلمة للكفرهازلاأولاعباكفرعند الكل ولااعتبارباعتقاده كما صرح به فی الخانية ومن تكلم بهامخطئاأومكرهالايكفرعند الكل، ومن تكلم بهاعامداعالماكفرعندالكل ومن تكلم بهااختياراجاهلا بأنهاكفرففيه اختلاف. (ردالمحتارعلی الدرالمختار، کتاب الجھاد، باب المستأمن، ج:4، ص:224)

أن مايكون كفرااتفاقايبطل العمل والنكاح،وما فيه خلاف يؤمربالاستغفاروالتوبةوتجديدالنكاح. (ردالمحتارعلی الدر المختار، کتاب الجھاد، باب المرتد، ج:4، ص:230)

وأماالجاهل إذا تكلم بكفرولم يدرأنه كفراختلفو فيه، قال بعضهم:لا يكون كفرا ويعذر بالجهل، وقال بعضهم: يصيركافراولايعذربالجهل. (الفتاوى الھندية، كتاب السير، باب مايكون كفرا من المسلم وما لا يكون، ج:9، ص:425)


فتویٰ نمبر : 6613/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں