بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

حرمت مصاھرت کےثبوت میں شہوت کامعیار


سوال

حرمتِ مصاہرت ثابت ہونےکےلیےجوشرائط ہیں اُن میں سےایک شرط شہوت کے ساتھ چھونا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ شہوت کی مقدارکتنی ہویااس کا معیارکیا ہے؟ کیاجماع کی خواہش (ہم بستری کی نیت)بھی شرط ہے؟یعنی کیا شہوت کےساتھ ساتھ جماع کی نیت کا ہونابھی ضروری ہے؟ کیونکہ امداد الاحکام میں "فصل في أحكام الحرمة المصاهرة" میں اس طرح کی ایک بحث موجود ہے،(حسن المحاضرة في تحقيق بعض شرائط حرمة المصاهرة، امداد الأحكام: ج: 4/ 364-380 زكريا بك) جہاں یہ کہا گیا ہے کہ شہوت کےساتھ ساتھ جماع کی خواہش کاہونا بھی شرط ہے۔لہٰذا یہ جاننا مقصود ہے کہ امداد الاحکام کی یہ بات کس حدتک صحیح ہے؟ ہم اس مسئلےمیں تردد اورالجھن کا شکار ہیں،اس لیےدرست بات کی وضاحت کے ساتھ ساتھ امداد الاحکام کےاس مقام کی توجیہ بھی درکارہےکہ وہاں اصل مقصد کیا ہے؟مجموعی طور پراس مسئلےکی تحقیق مطلوب ہے: یعنی شہوت کامعیارکیا ہوگا؟اورکیااس کےساتھ ساتھ جماع کی خواہش کاپایاجانابھی ضروری ہےیانہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت مطہرہ کی روسےحرمت مصاھرت کے ثبوت کے لئےدوشرطوں کاموجودہونا ضروری ہے،1: لمس یا نظرکے وقت شہوت معتبرہ کاوجود (شہوت معتبرہ سےمراد یہ ہے کہ چھونے یا دیکھنےکے وقت عضؤمخصوص میں انتشارپیداہوجائےیااگر پہلےسےمنتشرہوتواس میں زیادت اورشدت آجائے)دوسرایہ کہ ملموسہ (جس کو شہوت کےساتھ چھواہے)اورمنظورہ(جس کوشہوت کے ساتھ دیکھاہے)کی طرف میلان اورمجامعت کی خواہش ہو۔اگران دونوں میں کوئی ایک شرط بھی فوت ہوجائےتو حرمت مصاھرت ثابت نہ ہوگی،مثلا:اگرملموسہ یا منظورہ کی طرف مجامعت کا خیا ل نہیں ہواخواہ کسی دوسری کی طرف خیال ہوا ہویا نہ ہواہو،دونوں صورتوں میں حرمت مصاھرت ثابت نہ ہوگی۔اوریہی امداد الاحکام کی بحث(حسن المحاضرة في تحقيق بعض شرائط حرمة المصاهرة)کاخلاصہ اورنچوڑہے۔

 

قال عامة العلماء ‌الشهوة ‌أن ‌يميل قلبه إليها ويشتهي أن يواقعها، كذا في قاضي خان.( درر الحكام شرح غرر الأحكام،كتاب النكاح، ج:1، ص:330)

‌وحد ‌الشهوة في الرجل أن تنتشر آلته أو تزداد انتشارا إن كانت منتشرة، كذا في التبيين. وهو الصحيح، كذا في جواهر الأخلاطي. وبه يفتى، كذا في الخلاصة.( الفتاوى الهندية، كتاب النكاح، القسم الثاني المحرمات بالصهرية، ج:1، ص:275)

ويشترط ‌وقوع ‌الشهوة ‌عليها لا على غيرها لما في الفيض لو نظر إلى فرج بنته بلا شهوة فتمنى جارية مثلها فوقعت له الشهوة على البنت تثبت الحرمة، وإن وقعت على من تمناها فلا.(ردالمحتار مع الدر المختار،کتاب النکاح، ج:3، ص:33)

أقول: ذكر الشارح في فصل المحرمات من النكاح أن حد الشهوة في المس والنظر الموجبة لحرمة المصاهرة تحرك آلته أو زيادته به يفتى وفي امرأة ونحو شيخ تحرك قلبه أو زيادته اهـ ونقله القهستاني عن أصحابنا ثم قال: ‌وقال ‌عامة ‌العلماء: أن يميل بالقلب ويشتهي أن يعانقها وقيل أن يقصد مواقعتها.(ردالمحتار مع الدر المختار،کتاب الحظر والإباحة، ج:6، ص:365)


فتویٰ نمبر : 7392/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں